صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 106
106 كتاب الحج بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہوگئی ہو۔اس عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ پروہ کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میرے دل میں یہ کھٹکتا لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ہے کہ میں نے (عمرے والا ) بیت اللہ کا طواف نہیں وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ کیا یہانتک کہ میں نے حج کر لیا۔آپ نے فرمایا اے عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عبد الرحمان انہیں ساتھ لے جاؤ اور نعیم سے عمرہ عَبْدِ رضي جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ كروالا واور یہ حصبہ کی رات کا واقعہ ہے۔اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ دَخَلَ ایک اور روایت میں ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ حضرت عائشہ رضی اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْكِي فَذَكَرَ بِمِثْلِ الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ رو رہی حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخره وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ تھیں۔باقی روایت لیث (راوی) کی روایت کی آخِرِهِ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ (137) و حَدَّثَنِي طرح ہی ہے۔مگر اس روایت میں لیث کی روایت أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ يَعْنِي ابْنَ کے پہلے حصے کا ذکر نہیں ہے۔هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الزَّبَيْرِ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے حج عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) کے موقعہ پر ) عمرہ کا احرام باندھا۔اس روایت أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى میں مزید یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نرم مزاج تھے وَكَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب وہ کسی چیز کی خواہش کرتیں آپ اسے پورا حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَلَيْهِ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوَيَتْ الشَّيْءَ تَابَعَهَا فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو کرنے کی کوشش فرماتے۔پس آپ نے ان کے ساتھ حضرت عبد الرحمان بن ابو بکر کو بھیجا تو انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔(راوی) ابوالز بیر کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں الزُّبَيْرِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ تو وہی کرتیں جو اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ رہتے ہوئے ) انہوں نے ( حج میں ) کیا تھا۔كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [2939,2938,2937]