صحیح مسلم (جلد پنجم)

Page 133 of 188

صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 133

مسلم جلد پنجم سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فصُمْ يَوْمَيْن [2745] 133 كتاب الصيام 1962 (196) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى 1962: حضرت ابوقتادہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ** التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کس طرح قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدِ عَنْ غَيْلَانَ روزے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے عَنْ عَبْدِ الله بن مَعْبَدِ الزَّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی ناراضگی قَتَادَةَ رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھی تو عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ ہیں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ہے کے نبی اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ ہونے پر۔ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبَّا غضب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔حضرت عمر رضی وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ اللہ عنہ یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ کا غَضَب الله وَغَضَب رَسُوله فَجَعَلَ عُمَرُ غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! اللهُ عَنْهُ يُرَدَّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى اس شخص کا کیا حال ہے جو عمر بھر روزے رکھتا ہے؟ رضي رضي سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ الله آپ نے فرمایا۔اس نے نہ روزہ رکھا نہ چھوڑا۔كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ لَا صَامَ يا فرمايا لَمْ يَصُمُ وَلَمْ يُفْطِر انہوں نے پوچھا اس وَلَا أَفْطَرَ أَوْ قَالَ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ قَالَ شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے جو دو دن روزے كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ رکھتا ہے اور ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپ نے وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ فرمایا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ کیا تو وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور 1962: اطراف مسلم کتاب الصيام باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر۔۔۔1963، 1964 تخريج: ترمذى كتاب الصوم باب ماجاء في صوم الدهر 767 نسائی کتاب الصيام ذكر الاختلاف على عطاء في الخبر فيه ى عن صيام الدهر وذكر الاختلاف 2379 ، 2380 ، 2381 باب ذكر الاختلاف على غيلان بن جرير فيه 2382 ، 2383 ابو داود كتاب الصوم باب فى صوم الدهر تطوعًا 2425 ابن ماجه کتاب 237823772376 2375 23742373 الصيام باب ماجاء في صيام داود عليه السلام 1712 ، 1713 ا یہ روایت قابل غور ہے بعض دفعہ شبہ پڑتا ہے کہ اس میں دو الگ الگ واقعات مل جل گئے ہیں۔(واللہ اعلم)