صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 88
صحیح مسلم جلد چهارم 88 كتاب الجنائز وَاصْبِرِي فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَلَمَّا بتایا گیا یہ (تو) رسول اللہ عمل تھے۔اس پر جیسے ذَهَبَ قِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ موت طاری ہوگئی۔وہ آپ کے دروازے پر آئی اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَأَتَتْ بَابَهُ آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہ پایا۔وہ کہنے لگی فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔آپ نے الله لَمْ أَعْرِفُكَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ فرمایا صبر صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔صَدَمَةٍ أَوْ قَالَ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ وحَدَّثَنَاه عبد الصمد کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ ایک عورت يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ کے قریب سے گزرے جو ایک قبر کے پاس تھی۔يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرِو ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ مر عُمَرَ بقصَّته وَفِي حَدِيث عَبْدِ الصَّمَد النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةِ عِنْدَ قبر [2141,2140] 9191: بَابِ الْمَيِّتِ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ باب : میت کو اس کے اہل کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے 1527{16} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :1527 حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنِ حفصہ حضرت عمرؓ پر ( قاتلانہ حملہ کے وقت ) رونے ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ لگیں تو انہوں نے کہا اے بیٹی ! ذرا ٹھہرو، کیا تمہیں بِشَرِ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ پتہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میت کو اس حَدَّثْنَا نَافِعَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ کے اہل کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنْ ہے۔