صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 87
صحیح مسلم جلد چهارم 87 كتاب الجنائز عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ کون اس کی عیادت کرے گا؟ پس آپ اٹھے اور ہم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَحَا الْأَنْصَارِ كَيْفَ بھی آپ کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہم دس أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ صَالِحٌ فَقَالَ سے اوپر کچھ لوگ تھے۔ہم نے نہ جوتے پہنے تھے نہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ موزے، نہ ٹوپیاں تھیں نہ قمیصیں۔ہم اس فکر زمین يَعُودُهُ مِنْكُمْ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ میں چلے یہاں تک کہ ہم ان کے پاس آئے۔ان عَشَرَ مَا عَلَيْنَا نِعَالَ وَلَا خِفَافُ وَلَا قَلَائِسُ (عبادہ) کے لوگ ان کے اردگرد سے پیچھے ہٹ گئے وَلَا قُمُصٌ تَمْشِي فِي تِلْكَ السَّبَاحَ حَتَّى اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے وہ اصحاب جو آپ جِئْنَاهُ فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْله حَتَّى دَنَا کے ساتھ تھے قریب آئے۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ [2138] [8]8: بَاب فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَاَوَّل الصَّدْمَةِ صدمہ کے آغاز میں مصیبت پر صبر کا بیان 1525{14} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ الْعَبْدِيُّ :1525 حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقی صبر صدمہ کے آغاز عَنْ ثَابِت قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ میں ہی ہوتا ہے۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى [2139] 1526{15} وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1526 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ رسول الله ﷺ ایک عورت کے پاس تشریف لائے ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ أَنَّ رَسُولَ جو اپنے بیٹے پر رو رہی تھی۔آپ نے اسے فرمایا اللہ کا اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو۔وہ کہنے لگی تمہیں میری تَبْكِي عَلَى صَبِي لَهَا فَقَالَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ مصیبت کا کیا پتہ؟ جب آپ تشریف لے گئے اسے