صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 84
صحیح مسلم جلد چهارم 84 كتاب الجنائز هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله انہوں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا یہ اس وقت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ ہوتا ہے جب اس کی آنکھیں روح کا پیچھا کر رہی شَخَصَ بَصَرُهُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَذَلكَ حينَ ہوتی ہیں۔يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ و حَدَّثَنَاهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ [2133,2132] ابْنِ [6]6: بَابِ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ میت پر رونے کا بیان 1521{10} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1521 حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں جب حضرت وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلَّهُمْ عَنِ ابوسلم فوت ہوئے میں نے کہا ایک مسافر پردیس عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ میں فوت ہو گیا ہے ) میں ضرور اس پر ایسا رونا ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ رؤوں گی کہ جس کا ذکر کیا جائے گا۔میں نے اس پر قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ رونے کا تہیہ کر لیا اچانک ایک عورت بالائی علاقہ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَة لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً سے میری مدد کے ارادہ سے آئی۔رسول اللہ علی يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ الْبُكَاءِ اس کے سامنے آگئے ( اور مجھے ) فرمایا کیا تم چاہتی ہو عَلَيْهِ إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنَّ که شیطان کو ایسے گھر میں داخل کرو جس سے اللہ تُسْعَدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ الله صَلَّى الله اسے نکال چکا ہے۔(آپ نے ) دو دفعہ (ایسا فرمایا ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدخلي تو میں رونے سے رُک گئی اور پھر نہیں روئی۔الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكَ [2134] 1522{11} حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلِ الْجَحْدَرِيُّ :1522 حضرت اسامہ بن زیڈ سے روایت ہے وہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ عَنْ عَاصِمٍ کہتے ہیں ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔آپ کی ایک