صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 70
صحیح مسلم جلد چهارم 70 كتاب الكسوف سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ طرح روایت بیان کی وہ کہتے ہیں تم یہ نہ کہو كَسَفَتِ لَا تَقُلْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَلَكِنْ قُلْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ( سورج کو کسوف ہوا) لیکن یہ کہو خَسَفَتِ الشَّمْسُ [2105,104,2103 ] الشَّمْسُ ( کہ سورج کو خسوف ہوا )۔1501{14} حَدَّثَنَا يَحْيَى بن حبيب :1501 حضرت اسماء بنت حضرت ابو بکر سے روایت الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ہے کہ ایک دن نبی ﷺ فکرمند ہوئے۔وہ کہتی ہیں ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اِن کی مراد سورج گرہن کے دن سے تھی۔آپ نے عَنْ أُمِّه صَفِيَّةَ بنت شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بنت قمیض لی اور مسجد چلے گئے ) یہانتک کہ آپ کو أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله چادر پہنچائی گئی۔پھر آپ نے لوگوں کو لمبا قیام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَتْ تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ کروایا۔اگر کوئی شخص آتا تو اُ سے سمجھ نہ آتی کہ الشَّمْسُ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بردائه نبی ﷺ نے رکوع کیا ہے لمبے قیام کی وجہ سے وہ فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا لَوْ أَنْ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ نہ بتا سکتا کہ آپ نے رکوع بھی کیا ہے۔يَشعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے لمبا قیام کیا پھر مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ و رکوع کیا۔اور حضرت (اسماٹھ) نے کہا پس میں دیکھنے {15} حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ لگی ایک عورت کو جو مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ تھی اور حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ دوسری عورت کو جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی۔مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي [2107,2106] 1502{16} و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ :1502 حضرت اسماء بنت حضرت ابو بکر سے روایت الدَّارِ مِيُّ حَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں سورج گرہن ہوا۔آپ مَنصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فکر مند ہوئے اور جلدی سے (بغیر اوپر کی چادر قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ اوڑھے) قمیض میں چلے گئے۔پھر آپ کو بڑی چادر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعِ بھجوائی گئی۔وہ کہتی ہیں میں نے اپنا کام پورا کیا