صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 69
صحیح مسلم جلد چهارم 69 كتاب الكسوف فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثناء کی پھر فرمایا اما بعد وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ کوئی چیز بھی نہیں ہے جسے میں نے نہیں دیکھا تھا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ مگر اسے میں نے اپنی اسی جگہ پر دیکھ لیا ہے فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ یہانتک کہ جنت اور آگ بھی اور میری طرف وحی شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِی کی گئی ہے کہ تم سیاحت کرنے والے دجال کے هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ فتنہ کی مانند یا اس کی طرح آزمائے جاؤ گے۔أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فتنة (راویہ کہتی ہیں ) کہ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسما الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ نے کونسا لفظ کہا۔تم میں سے ایک شخص کو لایا جائیگا أَسْمَاءُ فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ اور کہا جائے گا اس شخص (محمد ﷺ ) کے بارہ میں بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا تمہارا کیا علم ہے ؟ پس جو ایمان لانے والا یا یقین کرنے والا ہوگا میں نہیں جانتی کہ حضرت اسمتھ نے أَدْري أَيَّ ذَلكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ صلى الله کونسا لفظ کہا۔وہ کہے گا وہ محمد ﷺ ہیں اللہ کے مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ الله جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مَرَارٍ فَيُقَالُ لَهُ رسول ہیں۔ہمارے پاس کھلے کھلے نشانات اور ہدایت لے کر آئے۔پس ہم نے قبول کیا اور تمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَتَمْ صَالِحًا اطاعت کی۔تین بار کہے گا ) پس اسے کہا جائے گا ( وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ سو جاؤ۔ہم یقیناً جانتے تھے کہ تم ضرور اس پر ایمان قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ رکھتے ہو۔پس آرام سے سو جاؤ اور جو منافق ہے یا يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ (12) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ شک کرنے والا ہے میں نہیں جانتی کہ حضرت اسمائو بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْب قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو نے کون سا لفظ کہا وہ کہے گا میں نہیں جانتا، میں نے أَسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے (بھی) کہہ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا دیا۔حضرت اسماء سے روایت ہے کہ میں حضرت هِيَ تُصَلّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ عائشہؓ کے پاس آئی لوگ ( نماز میں ) کھڑے تھے الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔میں نے کہا لوگوں کو کیا هِشَامٍ {13} أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ہوا ہے؟ عروہ سے روایت ہے انہوں نے ابن نمیر کی