صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 68 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 68

صحیح مسلم جلد چهارم 68 80 كتاب الكسوف ان رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ سے اٹک گیا تھا اور اگر پتہ نہ لگتا تو وہ اسے لے تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ حَشَاش جاتا یہانتک کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ نے اسے باندھ دیا تھا اور نہ اسے کھلایا اور نہ اسے وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھائے یہانتک فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ کہ وہ بھوک سے مرگئی۔پھر ( میرے سامنے ) جنت أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرهَا لتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لائی گئی یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتا لَا أَفْعَلَ فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ دیکھا یہانتک کہ میں اپنی جگہ کھڑا ہوا۔اور میں نے فِي صَلَاتِي هَذِهِ [2102] اپنا ہاتھ بڑھایا۔میں نے اس کے پھلوں میں سے کچھ لینے کا ارادہ کیا کہ تم بھی اسے دیکھ لو پھر مجھے خیال آیا کہ میں ایسا نہ کروں۔پس کوئی ایسی چیز نہیں جسکا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ نہ لیا ہو۔1500{11} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاء :1500 حضرت اسماء کہتی ہیں کہ رسول اللہ علی الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ کے عہد میں سورج گرہن ہوا۔میں حضرت عائشہؓ کے فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ پاس گئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے کہا کیا بات عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے جو لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔انہوں نے اپنے سر وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي سے آسمان کی طرف اشارہ کیا میں نے کہا نشان ! فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ فَأَشَارَتْ انہوں نے کہا ہاں۔رسول اللہ علیہ نے بہت لمبا برَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةً قَالَتْ نَعَمْ قیام کیا یہانتک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔میں نے فَأَطَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مشکیزے سے جو میرے پہلو میں تھا اس سے پانی لیا الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْعَشْيُ فَأَخَذْتُ اور اپنے سر پر یا کہا اپنے چہرہ پر ڈالنے لگی۔وہ کہتی صر الله قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصْبُ ہیں رسول اللہ علہ فارغ ہوئے اور سورج روشن عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ قَالَتْ ہو گیا پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا