صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 56
صحیح مسلم جلد چهارم 56 کتاب صلاة الاستسقاء عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ سے پناہ چاہتا ہوں اور اس کے شر سے جو اس میں ہے خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ به اور اس شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔وہ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا فرماتی ہیں جب آسمان ابر آلود ہوتا تو آپ کا رنگ أُرْسِلَتْ بِهِ قَالَتْ وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ متغیر ہو جاتا اور کبھی باہر تشریف لے جاتے اور کبھی تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا اندر تشریف لاتے اور آتے اور واپس جاتے۔جب مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلكَ في وَجْهه بارش برستی تو آپ کی یہ کیفیت دور ہو جاتی۔میں قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةَ آپ کے چہرے سے یہ پہچان گئی۔حضرت عائشہ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا کہتی ہیں میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا مُسْتَقْبلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ اے عائشہ! کیا پتہ جیسے عاد کی قوم نے جب انہوں نے اُسے ایک بادل کی صورت میں دیکھا جو اُن کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا تو کہا یہ ایسا بادل ہے جو مُمْطَرُنَا [2085] ہم پر بارش برسانے والا ہے۔(الاحقاف : 25) 1488{16} و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفِ :1488 : نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ سے حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ - روایت ہے کہ میں نے نبی مہ کو بھی کھل کر اس و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طرح بنتے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ کا حلق نظر آئے * وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا بس آپ تبسم فرماتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں النَّصْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ اور جب آپ بادل یا آندھی دیکھتے آپ کے چہرہ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے معلوم ہوجاتا۔انہوں (حضرت عائشہ) نے أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عرض کیا یا رسول اللہ ! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى بادل دیکھیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ وَكَانَ سے بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي آپ اسے دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے سے وَجْهِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا نا پسندیدگی پہچان لیتی ہوں۔وہ کہتی ہیں آپ نے طوات سے مراد گوشت کا وہ ٹکڑا جو حلق میں لڑکا ہوتا ہے۔