صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 54
صحیح مسلم جلد چهارم 54 کتاب صلاة الاستسقاء أبو أَسَامَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ ہے پھر مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور وہ اس کے الْأَعْلَى فَتَقَشَعَتْ عَنِ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَتْ اردگرد برسنے لگے اور مدینہ میں کوئی ایک قطرہ بھی تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا وَمَا تُمْطَرُ بِالْمَدِينَة قَطْرَةً نہ برستا تھا۔پھر میں نے مدینہ کی طرف دیکھا اور وہ فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ تاج ( سے ڈھکے ہوئے سر ) کی طرح تھا۔الْإِكْلِيلِ {11} و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا ابو کریب کی روایت حضرت انس سے اسی طرح عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ مروی ہے مگر اس میں یہ بات زائد بیان کی کہ اللہ ثَابِت عَنْ أَنَسِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فَأَلْفَ اللهُ بَيْنَ تعالیٰ نے بادلوں کو جمع کر دیا اور ہم رک گئے یہانتک السَّحَابِ وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ کہ میں نے ایک طاقت ور شخص کو فکر کرتے دیکھا کہ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ (12) و وہ اپنے گھر کیسے جائے گا۔ہارون بن سعید الایلی کی حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيد الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ روایت حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَسَامَةَ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس جمعہ کے دن آیا الله بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ اور آپ منبر پر تھے۔پھر راوی نے پوری روایت أَنسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى بیان کی اور اس میں یہ زائد بات بیان کی کہ بادل اس رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ طرح چھٹتے دیکھا جس طرح وہ چادر ہے جب وہ لیٹی الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَاقْتَصَّ جاتی ہے۔الْحَدِيثَ وَزَادَ فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى [2079,2078] [2082,2081,2080] 1485{13} و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى :1485: حضرت انس کہتے ہیں ہم رسول اللہ علی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِي کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نے آلیا۔راوی کہتے عَنْ أَنَس قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ ہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنا کپڑا ہٹا دیا یہانتک کہ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرْ قَالَ آپ پر کچھ بارش پڑی۔ہم نے کہا یا رسول اللہ ! فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے ایسا کس لئے کیا ؟ آپ نے فرمایا کیونکہ یہ