صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 53
صحیح مسلم جلد چهارم 53 کتاب صلاة الاستسقاء وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيكَ میں چلنے لگے۔شریک کہتے ہیں میں نے حضرت انس فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ بن مالک سے پوچھا کیا وہ پہلا شخص ہی تھا ؟ انہوں قَالَ لَا أَدْرِي [9] و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رشید نے کہا میں نہیں جانتا۔حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ داود بن رشید کی روایت جو حضرت انس بن حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ مالک سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں پر عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةُ رسول الله هلال اے کے عہد میں قحط پڑا۔اس دوران رسول عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله لا یہ جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ ارشاد وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا وَسَلَّمَ يَخطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ يا رسول اللہ ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بچے بھوکے الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مرنے لگے۔پھر راوی نے پہلی روایت کے مطابق هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعَيَالُ وَسَاقَ روایت کی اور اس روایت میں ( حَولَنَا کی بجائے ) الحديث بمَعْنَاهُ وَفِيهِ قَالَ اللهُمَّ حَوَالَيْنَا حَوَالَينا کہا۔وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَمَا يُشيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا راوی کہتے ہیں جس طرف بھی آپ اپنے ہاتھ سے تَفَرَّجَتْ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ اشارہ فرماتے (بادل) چھٹ جاتے یہانتک کہ میں الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا وَلَمْ يَجِی نے مدینہ کو ( گول وسیع ) میدان کی طرح دیکھا اور مِنْ نَاحِيَةِ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْد {10} و قناة وادی ایک مہینہ بہتی رہی اور کوئی بھی کسی سمت حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سے نہیں آیا مگر اس نے موسلا دھار بارش کا بتایا۔أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ حَدَّثَنَا حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی علی عُبَيْدُ اللَّه عَنْ ثَابِت الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے لوگ آپ کے مَالك قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سامنے کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے وَسَلَّمَ يَحْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ اے اللہ کے نبی ! بارش نہیں ہورہی ، درخت سرخ ہو النَّاسُ فَصَاحُوا وَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللهِ قَحَطَ گئے اور جانور ہلاک ہو گئے۔راوی نے پوری روایت الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ بیان کی اور اس بارہ میں عبدالاعلیٰ کی ایک روایت یہ أَحَدٌ۔