صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 38
صحیح مسلم جلد چهارم 38 لله كتاب صلاة العيد۔1457{3} وحَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :1457: حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ نبی وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ ابْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے۔آپ نے نماز پڑھی الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاء اور خطبہ سے پہلے آپ نے نماز سے ابتداء کی۔پھر صلى الله عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنْ لوگوں کو خطاب فرمایا۔پھر جب اللہ کے نبی ﷺ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فارغ ہوئے تو اُترے اور عورتوں کے پاس تشریف فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَة ثُمَّ خَطَبَ لائے اور ان کو نصیحت فرمائی اور آپ بلال کے بازو پر النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبيُّ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْہ سہارا لئے ہوئے تھے اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ ہوئے تھے۔عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔( راوی يَتَوَكَّأُ عَلَى يَد بلال وَبِلَال بَاسِطٌ ثَوْبَهُ کہتے ہیں) میں نے عطاء سے کہا عید الفطر کا صدقہ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَاءِ زَكَاةَ يَوْمِ (یعنی فطرانہ)؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ (عام) الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا صدقہ جو وہ اس وقت دے رہی تھیں عورتیں چھتے حينئذ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَحَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ ڈال رہی تھیں اور وہ ڈالتی اور ڈالتی چلی گئیں۔میں قُلْتُ لِعَطَاءِ أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ نے عطاء سے کہا کیا اب بھی امام کے لئے ضروری النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ قَالَ إِي ہے کہ وہ عورتوں کے پاس جائے جب وہ (خطبہ لَعَمْرِي إِنْ ذَلِكَ لَحَقِّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا سے فارغ ہو جائے اور انہیں نصیحت کرے؟ انہوں يَفْعَلُونَ ذَلِكَ [2047] نے کہا ہاں! میری عمر کی قسم ! یقینا یہ ان پر لازم ہے اور انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔1458{4} وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الله بن :1458 حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے نُمَيْر حَدَّثَنَا ابي - عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ دن نماز میں حاضر ہوا۔آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُول الله صَلَّى الله اذان اور اقامت کے نماز سے ابتداء کی۔پھر آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ فَبَدَأَ بلال کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے۔اور آپ نے بالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَة بغَيْرِ أَذَانِ وَلَا إِقَامَة اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا اور اس کی