صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 37 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 37

صحیح مسلم جلد چهارم هي 37 کتاب صلاة العيدين مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يُدْرَى حِينَئِذٍ مَنْ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔پھر اس قَالَ فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ (آیت کی تلاوت) سے فارغ ہوئے اور فارغ هَلُمَّ فِدّى لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ ہونے پر فرمایا: تم اس پر قائم ہو؟ ایک عورت بولی الْفَتَحَ وَالْحَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَال [2044] جی ہاں اے اللہ کے نبی اس کے سوا اُن میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔اس وقت پتہ نہیں چلا کہ وہ کون ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر صدقہ کرو۔حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلایا پھر کہا لاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔پھر وہ چھلے اور انگوٹھیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔1456 {2} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شيبة :1456 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ رسول الله ﷺ کے بارہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءٌ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز (عید) پڑھی۔وہ کہتے قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاس يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَی ہیں پھر آپ نے خطبہ دیا پھر آپ کو خیال ہوا کہ آپ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی عورتوں تک آواز نہیں پہنچا سکے۔تو آپ ان کے قَبْلَ الْخَطْبَةِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ پاس آئے اور انہیں نصیحت کی اور ان کو وعظ فرمایا يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ اور انہیں صدقہ کا حکم دیا اور حضرت بلال اپنا کپڑا وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ وَبِلَالَ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ پھیلائے ہوئے تھے۔عورتیں اپنی انگوٹھیاں چھلے فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْحَاتَمَ وَالْخَرْصَ اور چیزیں ڈالنے لگیں۔وَالشَّيْء و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ [12046,2045