صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 35 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 35

صحیح مسلم جلد چهارم حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَن الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْن [2041] جبير 35 كتاب الجمعة 731454) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1454: عمر بن عطاء بن ابی الخوار کہتے ہیں کہ نافع حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بن جبیر نے ان کو نمر کی بہن کے بیٹے سائب کی طرف عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخَوَارِ أَنْ نَافِعَ بْنَ بھیجا کہ وہ ان سے اس چیز کے بارہ میں پوچھیں جو أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ امیر معاویہ نے ان سے نماز میں دیکھی۔انہوں نے يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ کہا ہاں میں نے مقصورہ میں ان (امیر معاویہ ) فَقَالَ نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي کے ساتھ جمعہ پڑھا تھا جب امام نے سلام پھیر دیا تو الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور نماز پڑھی جب وہ مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ (امیر معاویہ ) اندر گئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا جو تم لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا نے کیا ہے پھر ایسا نہ کرنا جب تم جمعہ پڑھ لو تو جب تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ تک کلام نہ کر لو یا اس جگہ سے چلے نہ جاؤ کسی قسم کی رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بذلك أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ وَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ الله حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّد قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَام [2043,2042] نماز نہ پڑھو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز نماز سے ملائی نہ جائے یہانتک کہ ہم کلام کر لیں یا نکل نہ جائیں 2۔ایک اور روایت میں الامام کا لفظ نہیں ہے۔1 مقصورہ اس چھوٹے کمرہ کو کہا جاتا تھا جس میں حکام باجماعت نماز اپنی سہولت و حفاظت کی خاطر الگ پڑھا کرتے تھے۔2: یہ روایت قابل غور ہے۔