صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 261 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 261

صحیح مسلم جلد چهارم 261 كتاب الزكاة ارم عَلَى الْحُمُسِ وَتَوْقَلَ بْنَ الْحَارِث بن کچھ ادا کریں جس طرح لوگ ادا کرتے ہیں اور جیسے عَبْدِ الْمُطَّلِب قَالَ فَجَاءَاهُ فَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں ہم بھی اُٹھا ئیں۔راوی کہتے أَنْكِحْ هَذَا الْعَلَامَ ابْنَتَكَ - لِلْفَضْلِ بْنِ ہیں کہ حضور دیر تک خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے عَبَّاسِ فَأَنْكَحَهُ وَقَالَ لِتَوْفَلِ بْنِ الْحَارث چاہا کہ ہم (پھر) آپ سے بات کریں۔راوی کہتے أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ لي فَأَنْكَحَنِي ہیں حضرت زینب پردہ کے پیچھے سے ہمیں اشارہ کر وَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ أَصْدِق عَنْهُمَا مِنَ الْحُمُس رہی تھیں کہ آپ سے بات نہ کرو۔راوی کہتے ہیں پھر كَذَا وَكَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّه لی آپ نے فرمایا صدقہ آل محمد کے لئے مناسب نہیں۔(168) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفَ حَدَّثَنَا یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے۔محمہ کوبلا لاؤ۔وہ ٹمس پر مقرر تھے۔اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو لي شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ بلاؤ۔راوی کہتے ہیں وہ دونوں آپ کے پاس آئے۔آپ نے محمیہ سے فضل بن عباس کے بارہ میں فرمایا الْهَاشميِّ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْن عَبْدِ الْمُطَّلب أَخْبَرَهُ أَنْ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْن عَبْدِ الْمُطَّلب وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلب قَالَا لِعَبْدِ اس لڑکے سے اپنی بیٹی بیاہ دوتو انہوں نے ان سے نکاح کر دیا اور نوفل بن حارث سے فرمایا کہ اس لڑکے کا نکاح اپنی بیٹی سے کر دو تو انہوں نے مجھ سے نکاح کر دیا اور محمیہ سے فرمایا کہ ان دونوں کا حق مہر اتنا اتنا المطلب بن رَبيعَةَ وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاس ال ى انتيا خمس سے ادا کر دو۔زہری کہتے ہیں کہ راوی نے مجھے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ سے مہر کی مقدار کا ذکر نہیں کیا۔عبدالمطلب بن ربیعہ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكِ وَقَالَ فِيهِ بن حارث کہتے ہیں کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث فَأَلْقَى عَلِيٌّ رَدَاءَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ وَقَالَ بن عبد المطلب اور عباس بن عبد المطلب نے أَنَا أَبُو حَسَنِ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَكَانِي عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا تم حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آگے راوی بَعَثْتُمَا به إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے مالک کی روایت کی طرح بیان کیا اس میں انہوں وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ لَنَا إِنَّ نے کہا ہے کہ حضرت علی نے چادر بچھائی اور اس پر هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاحُ النَّاسِ لیٹ گئے اور کہا میں ابوالحسن بھی کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں