صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 260
260 كتاب الزكاة صحیح مسلم جلد چهارم مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ دونوں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو حضرت علی جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِب فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا بن ابی طالب نے کہا تم ایسا نہ کرنا اللہ کی قسم ! آپ فَذَكَرَا لَهُ ذَلكَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالب کا ایسا نہیں کریں گے۔ربیعہ بن حارث انہیں ایک تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلِ فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ طرف لے گئے اور کہا اللہ کی قسم آپ ہمارے ساتھ الْحَارِثِ فَقَالَ وَاللهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا صرف اس لئے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ آپ ہم سے نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا فَوَاللَّهُ لَقَدْ نَلْتَ صِهْرَ کچھ بخش محسوس کرتے ہیں۔اللہ کی قسم آپ کو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رسول الله ﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا اور ہم نَفْسُنَاهُ عَلَيْكَ قَالَ عَلِيٌّ أَرْسِلُوهُمَا فَانْطَلَقَا نے آپ سے اس پر کوئی حسد محسوس نہیں کیا۔حضرت وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ الله علی کہنے لگے اچھا انہیں بھیج دو۔پس وہ دونوں گئے اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى حضرت علیؓ لیٹ گئے۔جب رسول اللہ علی نے نماز الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ ظہر پڑھ لی ہم آپ سے پہلے حجرہ کی طرف بڑھے اور بآذَائِنَا ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ثُمَّ دَخَلَ اس کے پاس کھڑے ہو گئے۔یہانتک کہ آپ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ تشریف لائے اور ہمارے کان پکڑے پھر فرمایا جو تم جَحْشٍ قَالَ فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ ثُمَّ تَكَلَّمَ نے اپنے سینہ میں ) رکھا ہوا ہے اسے نکالو۔پھر أَحَدُنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ آپ اندر تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ وَأَوْصَلُ النَّاسِ وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ فَجِئْنَا گئے اس روز آپ حضرت زینب بنت جحش کے ہاں لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضٍ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَتُؤَدِّيَ تھے۔راوی کہتے ہیں پھر ہم بات کرنے کی ذمہ داری إِلَيْكَ كَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ كَمَا ایک دوسرے پر ڈالتے رہے پھر ہم میں سے ایک يُصِيبُونَ قَالَ فَسَكَتَ طَوِيلًا حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نے بات کی اس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ سب تُكَلِّمَهُ قَالَ وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ لوگوں سے زیادہ حسن سلوک کر نیوالے اور سب سے وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُكَلِّمَاهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور ہم شادی کی عمر کو إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لآل مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ پہنچ چکے ہیں ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ ہمیں کسی أَوْسَاحُ النَّاسِ ادْعُوا لِي مَحْمِيَةَ - وَكَانَ ( جگہ ) زکوۃ پر نگران مقرر کر دیں اور ہم آپ کو وہ