صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 255
صحیح مسلم جلد چهارم 255 كتاب الزكاة أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةٌ ثَدْي ایک ہاتھ بکری کے سر پستان (یا فرمایا) پستان کے فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِب رَضِيَ اللَّهُ کنارے جیسا ہے۔جب حضرت علی بن ابی طالب نے عَنْهُ قَالَ الظُّرُوا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجدُوا شَيْئًا انہیں قتل کیا تو فرمایا تلاش کرو۔انہوں نے دیکھا مگر کچھ فَقَالَ ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ نہ پایا آپ نے فرمایا پھر جاؤ۔اللہ کی قسم نہ میں نے مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ فَأَتَوْا به جھوٹ کہا نہ ہی مجھ سے جھوٹ کہا گیا ہے دو یا تین مرتبہ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ وَأَنَا آپ نے ایسا فرمایا پھر انہوں نے اسے ایک ویرانے ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٌّ فِيهِمْ میں پایا تو وہ اسے لے آئے یہانتک کہ اسے آپ کے يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ بُكَيْرٌ وَحَدَّثَنِي سامنے رکھا۔عبید اللہ کہتے ہیں ان کے اس سارے رَجُلٌ عَنِ ابْنِ حُنَيْنِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ ذَلكَ معاملہ کے موقعہ پر اور حضرت علی کے ان کے بارہ میں یہ کہنے کے وقت میں موجود تھا۔ایک شخص نے ابن حنین حاضر زَادَ الْأَسْوَدَ [2468] سے روایت کیا ہے کہ میں نے اس سیاہ شخص کو دیکھا تھا۔[49]50 : باب: الْخَوَارِجُ شَرَّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَة خوارج مخلوق اور خلق میں سب سے بدتر ہیں 1761{158} حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ :1761: حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نے فرمایا میرے بعد میری امت سے یا فرمایا میرے هلَالِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرِّ بعد میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جو قرآن قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے آگے نہیں جائے گا وہ إِنْ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ دین سے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے پھر أُمَّتِي - قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ وہ اس میں لوٹ کر نہیں آئیں گے۔یہ مخلوق اور حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ اخلاق میں بدترین ہوں گے۔ابن صامت کہتے ہیں السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ کہ میں حکم غفاری کے بھائی حضرت رافع بن عمرو الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَة فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ غفاری سے ملا میں نے کہا یہ کیا حدیث ہے جو میں فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا نے حضرت ابو ذر سے اس طرح سنی ہے اور پھر میں