صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 253 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 253

صحیح مسلم جلد چهارم 253 كتاب الزكاة مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ ان لوگوں کو اپنی اولا د اور اپنے اموال میں اپنا جانشین يَحْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَاللَّهِ بنا کر جاتے ہو اور خدا کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ لوگ ہیں کیونکہ انہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ کے ریوڑوں پر حملہ کیا۔پس اللہ کا نام لے کر روانہ النَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ قَالَ سَلَمَةُ بْنَ ہو جاؤ۔(راوی) سلمہ بن گہیل کہتے ہیں زید بن كُهَيْلِ فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبِ مَنزِلاً حَتَّى وہب نے مجھے ایک منزل پر اُتارا یہانتک کہ اس نے قَالَ مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةِ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى کہا ہم ایک پل پر سے گذرے جب ہماری مٹھ بھیٹر الْحَوَارِج يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ہوئی اور خوارج کا سردار اس وقت عبد اللہ بن وہب الرَّاسِيُّ فَقَالَ لَهُمْ أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا را سی تھا اس نے ان کو کہا نیزے پھینک دو اور تلواریں سيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ نیاموں سے نکالو کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہیں اس يُنَاشَدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ طرح قسم دیں جس طرح انہوں نے حروراء کے فَرَجَعُوا فَوَحْشُوا برمَاحِهِمْ وَسَلَّوا دن تمہیں قسم دی تھی۔پس وہ واپس لوٹے۔انہوں السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ قَالَ نے اپنے نیزے پھینک دیئے اور تلوار میں سونت لیں وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنَ اور لوگوں نے ان پر اپنے نیزوں سے حملہ کیا۔راوی النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ کہتے ہیں ان میں سے بعض قتل ہو کر بعض پر گرے اور اللَّهُ عَنْهُ الْتَمِسُوا فِيهِمْ الْمُخْدَجَ لوگوں میں سے اس دن صرف دو شہید ہوئے۔فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں سے وہ ٹنڈے عَنْهُ بنَفْسه حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ باز و والا تلاش کرو۔انہوں نے تلاش کیا مگر اسے نہ عَلَى بَعْضٍ قَالَ أَخَرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي پایا۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے الْأَرْضَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللهُ وَبَلْغَ یہانتک کہ ان لوگوں کے پاس پہنچے جن میں سے بعض رَسُولُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ قتل ہو کر بعض پر گرے تھے حضرت علی نے کہا انہیں حر وراء۔کوفہ کے قریب ایک مقام ہے۔جہاں خوارج کا پہلا اجتماع اور تحکیم ہوئی تھی اس نسبت سے حروری سے مراد خوارج کا وہ گروہ ہے جنہوں نے حضرت علی سے جنگ کی۔( مجمع البحار )