صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 246 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 246

صحیح مسلم جلد چهارم 246 كتاب الزكاة وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا قَالَ لَا أَدْرِي مَنِ الْحَرُورِيَّةُ گے اس امت میں سے ایک قوم یہ نہیں فرمایا اس وَلَكنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں سے ایک قوم نکلے گی۔تم اپنی نماز کو ان کی نماز کی وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَمْ يَقُلْ نسبت حقیر جانو گے وہ قرآن پڑھیں گے (مگر) وہ مِنْهَا قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ ان کے حلقوں یا گلوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔وہ فَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ خُلُوقَهُمْ أَوْ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ جاتا ہے اور تیر انداز اپنے تیر کو اپنے تیر کے پھل السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَى سَهْمه کو اور اس کے رصاف ' کو دیکھتا ہے اور اس کے إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رِصَافِه فَيَتَمَارَى فِي الْفُوقَة فوق 2 کے بارہ میں شک کرتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ هَلْ عَلقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَيْءٌ 24551] کچھ خون لگا ہے۔1751{148} حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا :1751 حضرت ابو سعید خدری" کہتے ہیں کہ ہم صلى الله عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔آپ مال غنیمت ) شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تقسیم فرمارہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرة جو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي بنی تمیم کا ایک شخص تھا آیا اس نے کہا یا رسول اللہ ! حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن عدل کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ بھلا الْفِهْرِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي کرے اگر میں نے عدل نہ کیا تو اور کون عدل کرے يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ گا؟ میں ناکام ہوا اور گھاٹے میں پڑ گیا اگر میں نے بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالصَّحَاكُ الْهَمْدَانِيُّ أَنَّ عدل نہ کیا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کی گردن مار دوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخَوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ چھوڑ دو، یقیناً اس جیسے اور بھی ( نکلنے والے ) ہیں تم مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں اور قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے روزہ کو ان کے روزہ کے مقابلہ میں حقیر جانے گا 1: وہ جگہ جہاں تیر کی لکڑی کو لوہے کے پھل میں داخل کر کے مضبوطی سے باندھا جاتا ہے۔2 فوق تیر کے پچھلے حصہ کو کہتے ہیں جسے کمان کے چلہ پر رکھا جاتا ہے۔