صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 244
صحیح مسلم جلد چهارم 244 كتاب الزكاة مُشَمَّرُ الْإِزارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اتَّقِ اللهَ تقوی اختیار کریں۔آپ نے فرمایا اللہ بھلا کرے۔فَقَالَ وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْل الْأَرْضِ أَنْ کیا میں زمین کے باشندوں میں سب سے زیادہ اللہ يَتَّقِيَ الله قَالَ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ کا تقوی اختیار کرنے کا اہل نہیں ہوں! راوی کہتے الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ الله أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ ہیں پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔حضرت خالد بن لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي قَالَ خَالِدٌ وَكَمْ مِنْ ولید نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ مُصَلِّ يَقُولُ بلسانه مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ مار دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ ہو۔حضرت خالد نے عرض کیا کتنے ہی نمازی ہیں جو أَو مَرْ أَنْ أَلْقَبَ عَنْ قُلُوب النَّاسِ وَلَا أَشقَّ زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتا۔بُطُونَهُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفِّ فَقَالَ رسول الله علیہ نے فرمایا مجھے یہ کم نہیں دیا کہ لوگوں إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِنْضِي هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کے دلوں میں نقب لگاؤں اور ان کے پیٹ چاک كِتَابَ اللهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ کروں۔راوی کہتے ہیں پھر آپ نے اس کی طرف يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ دیکھا جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا آپ نے فرمایا اس الرَّمِيَّة قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ لَمَنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو آسانی سے اللہ کی قَتْلَ ثَمُودَ (145) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي کتاب پڑھیں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ اُترے گی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَلَمْ شکار میں سے پار ہو جاتا ہے۔راوی کہتے ہیں میرا يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطَّفَيْلِ وَقَالَ نَاتِيُّ الْجَبْهَةِ خیال ہے آپ نے فرمایا اگر میں ان کو پاؤں تو شمود کی وَلَمْ يَقُلْ نَاشِرُ وَزَادَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ طرح تباہ و برباد کر دوں۔الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ ایک اور روایت میں علقمہ بن علاقہ کا ذکر ہے اور الله ألا رب عُنْقَهُ قَالَ لَا قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ عامر بن طفیل کا ذکر نہیں اور نَاشِرُ الْجَبْهَةَ ) کی فَقَامَ إِلَيْهِ حَالدٌ سَيْفُ اللَّه فَقَالَ يَا رَسُولَ جگہ نَاتِي الْجَبْهَة کا لفظ ہے اور مزید بیان ہے کہ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنْقَهُ قَالَ لَا فَقَالَ إِنَّهُ حضرت عمر بن خطاب آپ کی طرف گئے اور عرض سَيَخْرُجُ مِنْ ضِفْضِي هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کیا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں؟