صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 243
صحیح مسلم جلد چهارم 243 كتاب الزكاة صلى الله رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ وہ حضرت خالد بن ولید تھے۔رسول اللہ ﷺ نے الْوَلِيد فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمایا یقیناً اس کی نسل سے ایسے لوگ ہوں گے جو وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ ضِفْضِي هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ اُترے گا وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ کو چھوڑ دیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَئِن جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔اگر میں ان کو پاؤں تو أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ [2451] میں ضرور انہیں عاد کی ہلاکت کی طرح ہلاک کر دوں۔1749 (144) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا :1749: حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں حضرت علی عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا بن ابي طالب نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا خدمت میں چمڑے میں جسے بہول کی چھال سے رنگا سَعِيدِ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي گیا تھا سونا بھیجا جو ابھی مٹی سے نکالا نہیں گیا تھا۔طَالب إلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ راوی کہتے ہیں آپ نے اسے چار افراد عیینہ بن وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوطٍ لَمْ حصن اقرع بن حابس ، اور زید النخیل اور چوتھے تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا قَالَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ علقمہ بن علاقہ یا عامر بن طفیل تھے میں تقسیم فرما دیا۔نَفَرٍ بَيْنَ عُبَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعِ بْنِ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم حَابِسِ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ ان سے اس کے زیادہ حقدار ہیں۔راوی کہتے ہیں یہ عْلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطَّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا تم مجھے أَصْحَابِهِ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ قَالَ امین نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو قَبَلَعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آسمان میں ہے اور صبح و شام میرے پاس آسمان کی فَقَالَ أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ خبریں آتی ہیں۔راوی کہتے ہیں ایک شخص جس کی يَأْتيني خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً قَالَ آنکھیں دھنسی ہوئی رخسار اُبھرے ہوئے پیشانی فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْن اونچی داڑھی گھنی ، سر منڈا ہوا ، ازار کس کر اٹھائے نَاشِرُ الْجَبْهَة كَثُ اللحية مَخْلُوق الرَّأْس ہوئے کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کا