صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 224 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 224

صحیح مسلم جلد چهارم 224 كتاب الزكاة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْوَفُ مَا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! زهرة الدنیا سے کیا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ مراد ہے؟ آپ نے فرمایا زمین کی برکات۔انہوں زَهْرَةِ الدُّنْيَا قَالُوا وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا نے کہا یا رسول اللہ ! کیا بھلائی بھی برائی لاتی ہے؟ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَرَكَاتُ الْأَرْضِ قَالُوا يَا آپ نے فرمایا بھلائی تو بھلائی ہی لاتی ہے، بھلائی تو رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ قَالَ لَا بھلائی ہی لاتی ہے، بھلائی تو بھلائی ہی لاتی ہے۔يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا ہاں بہار جوا گاتی ہے وہ ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت کے بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ كُلَّ مَا قریب کرتی ہے سوائے اس چارہ کھانے والے کے أَثْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ کیونکہ وہ جو اسے کھاتا ہے یہانتک کہ اس کی کوکھیں فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَ گاهَا بھر جاتی ہیں پھر وہ سورج کے سامنے آتا ہے اور جگالی اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَت کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے اور گوبر کرتا ہے پھر وَتَلَطَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ إِنْ هَذَا الْمَالَ دوبارہ آتا ہے اور کھاتا ہے پس یقیناً یہ مال بہت حَضرَةٌ حَلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ في سرسبز اور شیریں ہے جو اسے جائز طریقہ سے لیتا ہے حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقَّهِ اور اس کا صحیح استعمال کرتا ہے تو وہ (مال) بہت اچھا كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ [2422] ساتھی ہے اور جو اسے ناجائز طریقہ سے لیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔1730{123} حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ :1730 : حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ رسول الله ﷺ منبر پر بیٹھے تو ہم آپ کے گرد بیٹھے۔صَاحِبِ الدَّسْتَوَانِيِّ عَنْ يَحْيَى بن أبي كثير آپ نے فرمایا میں تمہارے بارہ میں اپنے بعد جن عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ باتوں سے ڈرتا ہوں ان میں سے دنیا کی زیب و يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيد الْخُدْرِيِّ قَالَ جَلَسَ زینت بھی ہے جس کے دروازے تم پر کھول دیئے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جائیں گے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخَافُ بھلائی بھی برائی لاتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ اس پر عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةٍ خاموش رہے۔اسے کہا گیا کہ کیا بات ہے کہ تم