صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 222
صحیح مسلم جلد چهارم ابن 222 كتاب الزكاة آدَمَ إِلا التَّرَابُ وَكُنَّا نَقْرَأَ سُورَةً تیسری وادی کی بھی طلب کرتا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی كُنَّا نُشَبهُهَا بِإحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا ہی بھر سکتی ہے اور ہم ایک سورۃ پڑھتے تھے جسے ہم غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا منتجات میں سے ایک سے مشابہ قرار دیتے تھے وہ لمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتَكْتُبُ شَهَادَةً مجھے بھلا دی گئی۔اس میں سے یہ بات یادر ہی کہ اے أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ لوگو وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے۔اس کی گواہی تمہاری گردنوں میں لکھ دی جاتی ہے اور قیامت الْقِيَامَةِ [2419] کے دن تم سے اس بارہ میں پوچھا جائے گا۔[40]41: بَابِ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ :باب: دولتمندی مال و متاع کی کثرت سے نہیں ہوتی 1727(120} حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ وَابْنُ :1727: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي رسول الله ﷺ نے فرمایا دولتمندی مال و متاع کی الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ اصل دولتمندی تو نفس کی قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دولتمندی ہے۔لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغَنَى غِنَى النَّفْس [2420] [41]42 بَاب تَحَوُّفِ مَا يَخْرُجُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا محمد باب: دنیا کی زیب وزینت سے جو نتیجہ ) نکلے گا اس سے انذار 1728{121 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى :1728 حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدِح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ رسول الله لے کھڑے ہوئے اور لوگوں سے سَعِيد وَتَقَارَبَا في اللفظ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْتْ خطاب فرمایا اور کہا اللہ کی قسم اے لوگو! میں یہ روایت حدیث نبوئی نہیں ہے ایک ایسے راوی کی روایت ہے جو بھول جانے کا بار بار اقرار کرتے ہیں۔