صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 217
صحیح مسلم جلد چهارم 217 كتاب الزكاة مُشْرِفْ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبَعُهُ نَفْسَكَ [2405] 1718(111) وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا :1718: سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے والد سے روایت ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ حضرت عمر ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ کو کچھ عطا فرماتے تو حضرت عمر آپ سے عرض کرتے أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يا رسول اللہ ! اسے اس شخص کو عطا فرما دیں جو مجھ سے يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زیادہ اس کا ضرورتمند ہے۔رسول اللہ علیہ نے ان الْعَطَاءَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطه يَا رَسُولَ الله سے فرمایا یہ لے لو اور اس سے مالی فائدہ اٹھاؤ یا اس کو أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ الله صَلَّى صدقہ کر دو اور وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بن اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلُهُ أَوْ تَصَدَّق به مانگے ملے وہ لے لو ورنہ اس کے پیچھے مت پڑو۔سالم وَمَا جَاءَكَ هَذَا الْمَالِ وَأَنتَ غَيْرُ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اسی وجہ سے کسی سے کوئی من مُشْرِف وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُشبعه چیز نہیں مانگتے تھے اور جو چیز آپ کو دی جاتی اسے رڈ نَفْسَكَ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلكَ كَانَ ابْنُ نہیں کرتے تھے۔عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أَعْطِيَهُ و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرُو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بمثْل ذَلكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الله بن السَّعْدِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 12407,24061 1719{112} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا 1719: حضرت ابن ساعدی مالکی سے روایت ہے کہ لَيْتْ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ يُسْرِ بن سَعِيدِ عَن ابْنِ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوۃ وصول السَّاعِدِي الْمَالِكِي أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ کرنے کے لئے مجھے عامل بنایا جب میں اس کام