صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 216
صحیح مسلم جلد چهارم 216 كتاب الزكاة يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ جائز ہے۔یہانتک کہ اس کی معیشت کے لئے سہارا عَيْشِ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مل جائے یا معیشت کا رخنہ بھر جائے اور ایک وہ شخص مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا جسے فاقے کا سامنا ہو۔یہاں تک کہ اس کی قوم کے فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا تین سمجھدار لوگ گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ نے مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشِ فَمَا آلیا ہے تو اس کے لئے سوال جائز ہے یہانتک کہ سَوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَة يَا قَبيصةُ سُحْتَا يَأْكُلُها اس کی معیشت کے لئے سہارا مل جائے یا معیشت کا رختہ بھر جائے۔اس کے سوا سوال کرنا اے قبیصہ حرام صاحبُهَا سُحْتًا [2404] ہے۔اس کا مرتکب حرام کھاتا ہے۔381371 : بَاب إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ باب: چیز بغیر مانگے اور بغیر حرص کے کسی کو عطا کی جائے اسے اس کے لینے کی اجازت ہے 1717 (110) وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوف :1717 : سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْب ح و حَدَّثَنِي کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي خطاب کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ عطا فر ماتے تھے میں عرض کرتا اسے اس کو دے دیں اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورتمند ہے۔چنانچہ ایک الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَدْ كَانَ دفعہ آپ نے مجھے کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي عرض کیا کہ یہ اس کو عطا فرما دیں جو مجھ سے زیادہ الله الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطه أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنّي حَتَّى اس كا ضرورتمند ہو۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فرمایا لے لو، وہ مال جو تمہیں بغیر حرص کے اور بغیر فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مانگے ملے اسے لے لو ورنہ اس کے پیچھے مت پڑو۔خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالَ وَأَنْتَ غَيْرُ