صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 207
صحیح مسلم جلد چهارم 207 كتاب الزكاة 1700{93 و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 1700 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی علی وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ کون سا صدقہ اجر میں سب سے بڑا ہے؟ آپ نے رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا سنو تمہارے باپ کی قسم تمہیں ضرور اس بارہ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ میں بتایا جائے گا یہ کہ تم اس حال میں صدقہ کرو جبکہ تم أَجْرًا فَقَالَ أَمَا وَأَبيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّق تندرست ہو اور مال کی ) خواہش رکھتے ہو اور غربت وَأَنتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ سے ڈرتے ہو اور زندہ رہنے کی امید رکھتے ہو اور اس الْبَقَاءَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ کا انتظار نہ کرو کہ جان حلق تک آجائے تم کہو کہ فلاں قُلْتَ لفُلان كَذَا وَلِفُلَانِ كَذَا وَقَدْ كَانَ کیلئے یہ ہے اور فلاں کیلئے یہ ہے وہ تو فلاں کا ہو چکا۔لِفُلَانِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلِ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا ایک اور روایت میں آئی الْصَدَقَةِ أَعْظَمُ کے عَبْدُ الْوَاحد حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بجائے اَيُّ الْصَدَقَةِ أَفْضَلُ ہے۔غَيْرَ أَنَّهُ بهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ [2384,2383] [32]33 : بَاب بَيَان أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَد السُّفْلَى وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ باب : اس بات کا بیان کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور یہ کہ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے 1701(94) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ عَنْ 1701: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ مَالك بْن أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رسول الله ﷺ نے منبر پر جبکہ آپ صدقہ اور سوال عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ وَالے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَن الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔صحیح بخاری کی روایت میں یہ فقرہ موجود نہیں۔ممکن ہے اس روایت میں راوی کو سہو ہوا ہو۔