صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 195 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 195

صحیح مسلم جلد چهارم 195 241231: بَاب مَثَلِ الْمُنْفَقِ وَالْبَحْيل باب خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال كتاب الزكاة 1681(75) حَدَّثَنَا عَمْرُو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا :1681 : حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی میو سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَج نے فرمایا خرچ کرنے والے اور صدقہ کرنے والے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس پر دو جہتے تہوں یا وَسَلَّمَ قَالَ عَمْرُو وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ دوڈھالیں ہوں جو ان دونوں کے سینہ سے دونوں کی قَالَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج عَنِ الْحَسَنِ بْن پنسلی کی ہڈیوں تک ہوں پس جب خرچ کرنے مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ والا ارادہ کرتا ہے اور دوسرے راوی نے کہا جب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنْفق صدقہ دینے والا ارادہ کرتا ہے کہ صدقہ کرے تو وہ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ اس پر کشادہ ہو جاتے ہیں یا پھیل جاتے ہیں اور جب جنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ تُديَّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا بخیل ارادہ کرتا ہے کہ خرچ کرے تو وہ اس پر تنگ پڑ أَرَادَ الْمُنْفِقُ وَقَالَ الْآخَرُ فَإِذَا أَرَادَ جاتی ہیں اور ہر حلقہ اپنی جگہ لے لیتا ہے یہاں تک کہ الْمُتَصَدِّقُ أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ وہ اس کی پوروں تک کو ڈھانک دیتی ہیں اور اس کے مَرَّتْ وَإِذَا أَرَادَ الْبَحْيلُ أَنْ يُنْفَقَ قَلَصَتْ نقشِ قدم کو مٹادیتی ہے۔عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَة مَوْضِعَهَا حَتَّى حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ آپ نے فرمایاوہ اسے تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی ہے فَقَالَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ [2359] 1682{76} حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ الله :1682 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي رسول الله علیہ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ مثال دو آدمیوں جیسی بیان فرمائی جن پر لوہے کی دو : اس روایت کے الفاظ میں کچھ حذف اور کمی بیشی ہے مسلم کے معروف ترین شارح امام نووی کہتے ہیں کہ اس روایت کے الفاظ میں اختلال کثیر یعنی بہت گڑ بڑ ہے۔