صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 169
صحیح مسلم جلد چهارم 169 كتاب الزكاة قَالَ فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى ہوئے نہیں دیکھا۔راوی کہتے ہیں وہ پیٹھ پھیر کر چلے سَارِيَة فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا مَا گئے میں نے ان کا پیچھا کیا یہانتک کہ وہ ایک ستون قُلْتَ لَهُمْ قَالَ إِنْ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ کے پاس بیٹھ گئے میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے اُسے جو آپ نے انہیں کہا ہے ناپسند کیا دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَتَرَى أُحُدًا فَنَظَرْتُ مَا ہے۔انہوں نے کہا یہ لوگ تو کچھ عقل نہیں کرتے۔عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثْنِي في يقينا میرے دوست ابوالقاسم عﷺ نے مجھے بلایا تو حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ فَقَالَ مَا يَسُرُّني أَنْ لي میں نے آپ کو لبیک کہا پھر آپ نے فرمایا کیا تم احد مِثْلَهُ ذَهَبًا أَنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے اپنے اوپر سورج کو دیکھا اور هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ میرا خیال تھا کہ آپ مجھے اپنے کسی کام کے لئے بھیجنا قُلْتُ مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ لَا چاہتے ہیں۔میں نے عرض کیا میں اسے دیکھ رہا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ قَالَ لَا وَرَبِّكَ لَا ہوں۔آپ نے فرمایا ” مجھے یہ بات خوش نہیں کرے أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ گی کہ میرے پاس اس پہاڑ جتنا سونا ہو اور میں اس حَتَّى أَلْحَقِّ بِاللَّهِ وَرَسُوله [2306] سارے کو خرچ کروں سوائے تین دینار کے۔پھر بھی یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا آپ اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تاکہ ان سے کچھ لیں۔انہوں نے کہا نہیں تیرے رب کی قسم ! نہ میں ان سے کوئی دنیا مانگوں گا اور نہ ان سے دین کے بارہ کچھ پوچھوں گا یہانتک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں۔1643{35} و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ :1643: احنف بن قیس سے روایت وہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصْرِيُّ میں قریش کے ایک گروہ میں تھا کہ حضرت ابو ذریہ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنتُ فِي نَفَرٍ مِنْ کہتے ہوئے گذرے مال جمع کرنے والوں کو اس