صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 166
صحیح مسلم جلد چهارم 166 كتاب الزكاة قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِثْلَ مَا صَنَعَ اس طرح اور اس طرح کرے ویسے ہی جیسے آپ نے الْمَرَّةِ الْأُولَى قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ يَا أَبَا پہلی دفعہ کیا تھا۔وہ کہتے ہیں پھر ہم چلے آپ نے ذَرْ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيكَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى فرمایا اے ابو ذر ! جب تک میں تمہارے پاس نہ تَوَارَى عَنِّي قَالَ سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ آجاؤں جہاں ہو وہیں رہو۔وہ کہتے ہیں پھر آپ صَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى چلے یہانتک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے وہ کہتے ہیں میں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ نے کچھ شور سنا کچھ آواز سنی۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّی کہ شاید آپ کو کوئی بات پیش آگئی ہے۔وہ کہتے ہیں آتِيكَ قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ میں نے ارادہ کیا کہ میں پیچھے جاؤں وہ کہتے ہیں پھر الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ فَقَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي مجھے آپ کی وہ بات یاد آ گئی کہ تم اس وقت تک اپنی فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشرك بالله جگہ سے نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَكَى وَإِن آجاؤں۔وہ کہتے ہیں میں نے آپ کا انتظار کیا اور سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَكَى وَإِنْ سَرَقَ [2304] جب آپ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا جو میں نے سنا تھا۔وہ کہتے ہیں آپ نے فرمایا وہ جبرائیل تھے وہ میرے پاس آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی امت میں سے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا خواہ وہ زنا کر چکا ہو یا چوری کر چکا ہو؟ فرمایا خواہ و زنا کر چکا ہو یا چوری کر چکا ہو۔وہ 1641{33} وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد حَدَّثَنَا :1641 حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں ایک جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعِ عَنْ رات باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ علی زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ خَرَجْتُ اکیلے تشریف لے جارہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ آدمی (بھی) نہیں۔وہ کہتے ہیں مجھے خیال آیا کہ