صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 164
صحیح مسلم جلد چهارم 164 كتاب الزكاة فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ باپ آپ پر قربان ہوں وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا فِدَاكَ أَبي وَأُمِّي مَنْ هُمْ قَالَ هُمُ الْأَكْثَرُونَ وہ بڑے بڑے مالدار ہیں سوائے اس کے جس نے أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا اس طرح اور اس طرح اور اس طرح دیا اپنے آگے مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ اور اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں لیکن وہ شِمَالِهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِب إِبل وَلَا بہت تھوڑے ہیں۔کوئی اونٹوں گائیوں اور بکریوں بَقَرٍ وَلَا غَنَمِ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ والا جو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتا (اس کے جانور ) الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ قیامت کے دن اس حالت میں آئیں گے جب وہ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَطْلَافِهَا كُلَّمَا نَفَدَتْ سب سے بڑے اور فربہ تھے۔وہ اسے اپنے سینگوں أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقَضَى سے ماریں گے اور اپنے کھروں تلے روندیں گے جب بھی اس پر سے دوسری گزر جائے گی تو پہلی اس بَيْنَ النَّاسِ و حَدَّثَنَاهِ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ پر لوٹ آئے گی یہانتک کے لوگوں کے درمیان فیصلہ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ کر دیا جائے گا۔حضرت ابوذر سے ایک اور روایت الْمَعْرُورِ عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ النَّهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا آپ کعبہ کے سایہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلْ میں تشریف فرما تھے۔پھر انہوں نے کہا کہ آپ می الْكَعْبَةِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعِ غَيْرَ أَنَّهُ نے فرمایا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ اس قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے زمین پر رَجُلٌ يَمُوتُ فَيَدَعُ إِبلا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَما لَمْ کوئی آدمی ایسا نہیں جو مر جائے اور اونٹ گائیاں اور يُؤَدِّ زَكَاتَهَا [2301,2300] بکریاں چھوڑ جائے جن کی اس نے زکوۃ ادا نہ کی ہو۔1639{31} حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ :1639 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسلِم نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے یہ بات خوشی کا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ موجب نہیں کہ میرے پاس احد ( پہاڑ ) جتنا سونا ہو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ لِي اور مجھ پر تیسری رات آئے کہ میرے پاس ایک بھی أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دينار ہو سوائے اس دینار کے جسے میں اپنے قرض دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنِ عَلَيَّ وحَدَّثَنَا ( کی ادائیگی ) کے لئے محفوظ رکھ لوں۔