صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 162
صحیح مسلم جلد چهارم 162 كتاب الزكاة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ قیامت کے دن ایک چٹیل میدان میں ان کے إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمِ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا سامنے بٹھایا جائے گا اور کھروں والے اسے اپنے أَقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعِ قَرْقَرٍ تَطَوُهُ کھروں تلے روندیں گے اور سینگوں والے اسے ذَاتُ الظُّلْف بظلْفَهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتَ الْقَرْن اپنے سینگ ماریں گے۔اس دن ان میں کوئی بغیر بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا سینگ اور ٹوٹے سینگوں والی نہ ہوگی۔ہم نے عرض مَكْسُورَةُ الْقَرْن قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا كيا يا رسول اللہ! ان کا کیا حق ہے؟ فرمایا ان کے نر حَقُهَا قَالَ إِطْرَاقَ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلُوهَا اونٹ کو نسل کشی کے لئے چھوڑنا۔عاریہ اس کا ڈول وَمَنِيحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمَّلٌ دينا، دودھیل جانور عطیہ دینا اور پانی پر ان کا دودھ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا مِنْ صَاحِب مَال دوہنا ور اللہ کی راہ میں اس پر سواری کروانا اور کوئی لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دولت مند جو اس (مال) کی زکوۃ نہیں دیتاوہ (مال) شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ قیامت کے دن ایک گنجے سانپ ( کی صورت ) میں وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَيُقَالُ هَذَا مَالُكَ الَّذِي تبدیل ہو جائے گا اور اپنے مالک کا جہاں کہیں وہ جائے گا پیچھا کرے گا اور وہ (مالک) اس سے بھاگے گا اور کہا جائے گا یہ تیرا مال ہے جس میں تو بخل کرتا تھا پس جب وہ دیکھے گا کہ اب کوئی چارہ نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کر دے گا اور وہ اسے اونٹ کے چبانے کی طرح چبانے لگے گا۔كُنتَ تَبْحَلُ بِهِ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ 22971] 8171 : بَاب إِرْضَاءِ السُّعَاةِ باب : عاملین زکوۃ کو راضی کرنا * ماپرس 1637{29} حَدَّثَنَا أَبُو كَامل فُضَيْلُ بْنُ 1637 حضرت جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ حُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ کچھ بدوی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَعيلَ حَدَّثَنَا حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض زکوۃ وصول کرنے شریعت کے مقرر کردہ احکام کی تعمیل کا ارشاد ہے۔