صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 139 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 139

صحیح مسلم جلد چهارم 139 كتاب الجنائز أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ درعي في رأسي اور لمبا قیام فرمایا۔پھر آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ وَاحْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ اٹھائے۔پھر آپ واپس مڑے اور میں بھی مڑی۔عَلَى إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ آپ تیز چلنے لگے ، میں بھی تیز چلنے لگی۔آپ نے الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّات ثُمَّ رفتار اور تیز کی تو میں نے بھی کر لی۔آپ تیز دوڑنے الْحَرَف فَالحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ لگے میں بھی تیز دوڑنے لگی پھر آپ گھر آگئے اور میں فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَاحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ آپ سے پہلے اندر داخل ہوئی۔پس میں لیٹی ہی فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اصْطَجَعْتُ تھی کہ آپ اندر آگئے اور فرمایا اے عائش ! تمہیں کیا فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِسُ حَشْيَا رَابِيَةً ہوا ؟ تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا کوئی بات نہیں۔آپ نے فرمایا تم ضرور مجھے بتاؤ گی ورنہ لطیف و خبیر (خدا) مجھے بتا دے گا۔وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔پھر میں نے آپ کو ساری بات بتادی۔آپ نے فرمایا (اچھا ) تو تم وہ سایہ تھیں جسے قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْءٍ قَالَ لَتَحْبِرِينِي أَوْ ليُخبرني اللطيفُ الْخَبِيرُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ الله بأبي أَنتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَأَنت السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں۔ثُمَّ قَالَ أَظَنَنْت أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكَ آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا جو مجھے محسوس ہوا۔وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ پھر فرمایا کیا تم نے گمان کیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول اللَّهُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ تمہاری حق تلفی کریں گے؟ حضرت عائشہ نے کہا جو فَنَادَانِي فَأَحْفَاهُ مِنْكَ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ آپ نے فرمایا ہاں جبرائیل میرے پاس آئے جب ثِيَابَكَ وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ تم نے دیکھا اور انہوں نے مجھے بلایا اور تم سے أُوقِظَكَ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحشِي فَقَالَ إِنَّ انہوں نے مخفی رکھا۔میں نے ان کی بات قبول کی اور رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ اسے تم سے مخفی رکھا۔جب تم اپنے کپڑے رکھ چکی تو لَهُمْ قَالَتْ قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اس نے تمہارے پاس نہیں آنا تھا مجھے خیال تھا کہ تم سو