صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 138 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 138

صحیح مسلم جلد چهارم 138 كتاب الجنائز 1607{103} وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ :1607 : عبد اللہ بن کثیر بن المطلب نے محمد بن قیس کو الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا کہتے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ کو حدیث بیان صلى الله ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ کرتے سنا وہ کہتی تھیں کیا میں تمہیں نبی ﷺ اور الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ يَقُولُ اپنے بارہ میں حدیث بیان نہ کروں ؟ ہم نے کہا سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ فَقَالَتْ أَلا کیوں نہیں۔دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں کہ محمد بن أَحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے ایک دن کہا۔کیا میں تمہیں اپنے اور اپنی وَعَنِّي قُلْنَا بَلَى ح و حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ماں کے بارہ میں حدیث نہ سناؤں۔وہ کہتے ہیں ہم حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا سمجھے ان کی مراد اپنی ماں سے ہے جو اُن کی حقیقی والدہ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْج تھیں۔انہوں نے کہا حضرت عائشہ نے فرمایا کیا میں أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ تمہیں اپنے اور رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں بات نہ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَحْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلب سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔راوی کہتے ہیں أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي حضرت عائشہؓ نے فرمایا ایک دفعہ اس رات میں جس قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُريدُ أُمَّهُ الَّتي وَلَدَتْهُ قَالَ میں نبی ﷺ میرے ہاں تھے۔آپ گھر لوٹے، قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَا أُحَدِّتُكُمْ عَنِّي وَعَنْ اپنی چادر رکھ دی اور اپنے جوتے اتارے اور اپنے رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بَلَى پاؤں کے قریب رکھ دیئے۔اور اپنے ازار کا ایک پہلو قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے۔اور آپ اتنا وقت ٹھہرے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدي کہ آپ نے خیال فرمایا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ نے الْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ آہستہ سے اپنی چادر لی۔آہستہ سے اپنے جوتے پہنے فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِه اور دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے۔پھر اُسے آرام سے عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَتْ إِلَّا رَيْثَمَاً بند کر دیا۔میں نے اپنی قمیص سر پر سے پہنی * اور اپنی ظَنَّ أَنْ قَدْ وَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا اوڑھنی لی اور ازار پہنا اور آپ کے پیچھے چل پڑی وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ یہانتک کہ آپ بقیع پہنچ گئے۔آپ کھڑے ہوئے ورع سے مراد چھوٹی قمیص ہوتی ہے جو صدری کی طرح ہوتی ہے۔