صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 129
صحیح مسلم جلد چهارم 129 كتاب الجنائز النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَی دے۔اور اس کے اہل سے بہتر اہل عطاء کر۔اور اس جَنَازَةِ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاعْفُ کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا کر۔اور اسے قبر کی عَنْهُ وَعَافِهِ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسَعْ مُدْخَلَهُ آزمائش سے اور آگ کے عذاب سے بچا۔وَاغْسِلْهُ بِمَاءِ وَثَلْجِ وَبَرَدٍ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا حضرت عوف کہتے ہیں میں نے رسول اللہ علیہ کی كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ اس میت پر دعا کی وجہ سے خواہش کی کہ کاش وہ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَاره وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْله مرنے والا میں ہی ہوتا۔وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ عليسة وَعَذَابَ النَّارِ قَالَ عَوْفٌ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ أَنَا الْمَيِّتَ لِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ الْمَيِّتِ [2234] [27]27: بَاب أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّت للصَّلَاةِ عَلَيْهِ امام میت پر جنازہ پڑھنے کے لئے کہاں کھڑا ہو! 1591{87} وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى :1591 حضرت سمرة بن جندب سے روایت ہے وہ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ اور آپ نے ام کعب کی نماز جنازہ ) پڑھائی وہ زچگی بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبِ قَالَ صَلَّيْتُ کی حالت میں فوت ہوئی تھیں۔رسول اللہ علیے ان الله خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّی کی نماز جنازہ کے لئے (جنازہ کے ) درمیان کھڑے عَلَى أُمَّ كَعْب مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ ہوئے۔دوسرے راویوں نے حسین سے اسی سند سے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا روایت کی ہے اور انہوں نے ام کعب کا ذکر نہیں کیا۔وَسَطَهَا و حَدَّثَنَاهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حِ و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكَ وَالْفَضْلُ