صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 116
صحیح مسلم جلد چهارم 116 كتاب الجنائز جَبَتْ وَجَبَتْ قَالَ عُمَرُ فِدَّى لَكَ أَبِي وَأُمِّي پھر ایک جنازہ گزرا، اس کی بُرائی بیان کی گئی اور آپ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ فَقُلْتَ وَجَبَتْ نے فرمایا واجب ہوگئی، واجب ہوگئی، واجب ہوگئی۔وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةِ فَأَثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی تم نے اچھی تعریف فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ بُرائی بیان کی اس کے لئے آگ واجب ہو گئی۔تم خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔تم زمین میں اللہ کے وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّه فِي الْأَرْضِ گواہ ہو۔تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ الله ایک روایت میں مُرَّ بِجَنَازَةٍ کی بجاۓ مُرَّ عَلَى صلى الله ، الْأَرْضِ وَ حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ النَّبِيِّ ﷺ جَنَازَة کے الفاظ آئے ہیں۔حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ كلَاهُمَا عَنْ ثَابِت عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثٍ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنمُّ [2201,2200 [21]21: بَاب مَا جَاءَ فِي مُسْتَرِيحٍ وَمُسْتَرَاحٍ مِنْهُ باب: اس کے بارہ میں بیان جس کو آرام مل گیا اور جس سے ( لوگوں کو ) آرام مل گیا 1568{61} وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد عَنْ :1568 حضرت ابو قتادہ بن ربعی سے روایت ہے وہ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ ایک جنازہ گزرا آپ نے فرمایا آرام پانے والا اور بْنِ مَالِكِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيُّ أَنَّهُ كَانَ جس سے آرام پایا گیا۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! يُحَدِّثُ أَنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آرام پا گیا اور جس سے آرام پایا گیا سے کیا مراد