صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 112
صحیح مسلم جلد چهارم 112 كتاب الجنائز حَدَّثَنَا 1562{55) حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ :1562 نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر سے کہا گیا کہ جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ اللہ کو قَالَ قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ فرماتے سنا ہے جو جنازہ کے ساتھ جاتا ہے اس کے عْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لیے ایک قیراط کا اجر ہے۔حضرت ابن عمر نے کہا يَقُولُ مَنْ تَبعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْر حضرت ابو ہریرہ نے ہم سے بہت سی روایات بیان فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ کی ہیں۔پھر انہوں نے حضرت عائشہ کی طرف فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا فَصَدَّقَتْ أَبَا (کسی کو) پیغام دے کر بھیجا اور ان سے پوچھا انہوں هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي نے حضرت ابو ہریرہ کی تصدیق کی۔اس پر حضرت ابن عمر نے کہا ہم نے بہت سے قیراط ( حاصل کرنے قَرَارِيطَ كَثِيرَة [2194] میں ) کوتا ہی کی۔1563{56] و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الله :1563: داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي اپنے والد سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن عمر حَيْوَةُ حَدَّثَنِي أَبُو صَحْرِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ خباب صاحب مقصورہ * اللَّهِ بْنِ قُسَيْط أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنْ دَاوُدَ بْنَ عَامِرٍ آئے اور کہا اے عبداللہ بن عمر ! کیا آپ نہیں سنتے جو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ طَلَعَ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جو گھر سے جنازہ کے حَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَة فَقَالَ يَا عَبْدَ ساتھ نکلا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔پھر اس کے اللهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ساتھ گیا یہانتک کہ دفن کیا گیا تو اس کے لئے دو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قیراط اجر ہے۔ہر قیراط احد کے برابر ہے اور جس يَقُولُ مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّی نے اس کی نماز ( جنازہ) پڑھی ، پھر واپس چلا گیا عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ تو اس کے لئے احد کے برابر ثواب ہے۔حضرت مِنْ أَجْرٍ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى ابن عمر نے خباب کو حضرت عائشہ کی طرف بھیجوایا مقصورہ اس کمرے کو کہتے تھے جو بعض حکام نے مسجد میں اپنے لئے الگ نماز پڑھنے کے لئے بنایا تھا