صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 101
صحیح مسلم جلد چهارم 101 كتاب الجنائز النِّيَاحَةُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فلاں خاندان کے کیونکہ انہوں نے جاہلیت میں (نوحہ فَلَان فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ کرنے میں ) میرا ساتھ دیا تھا۔اب میرے لئے اس فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أَسْعِدَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ میں ان کا ساتھ دوں۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا آلَ فُلَانٍ [2165] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے فلاں خاندان کے۔[11]11 : بَابِ نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ باب: عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی ممانعت کا بیان 1545{34} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا :1545 حضرت ام عطیہ کہتی ہیں ہمیں جنازوں کے ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ پیچھے جانے سے منع کیا جاتا تھا مگر اس بارہ میں ہمیں سِيرِينَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا نُنْهَى عَنْ سختی سے نہیں کہا جاتا تھا۔اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا [2166] 1546{35} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1546: حضرت ام عطیہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وحَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا مگر إبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا عَنْ ہمیں اس بارہ میں سختی سے نہیں کہا جاتا تھا۔هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْرَمْ عَلَيْنَا [2167] [12]12 : بَاب فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ باب : میت کو غسل دینے کا بیان 1547 {36} و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى 1547: حضرت ام عطیہ سے روایت ہے وہ کہتی الله أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ ہیں نبی ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم آپ کی بیٹی بن سيرينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا کو غسل دے رہے تھے۔آپ نے فرمایا اس کو تین یا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ پانچ مرتبہ غسل دینا، یا اگر تم (ضرورت) سمجھو تو اس ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ سے زیادہ مرتبہ غسل دو) پانی اور بیری کے پتوں