صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 99
صحیح مسلم جلد چهارم 99 كتاب الجنائز لَمَّا جَاءَ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول الله علہ تشریف فرما تھے۔آپ غمگین نظر آ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ رہے تھے۔وہ فرماتی ہیں میں دروازہ کے سوراخ اللَّهِ بْن رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله سے دیکھ رہی تھی کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ قَالَتْ وَأَنَا اُس نے کہا یا رسول اللہ ! جعفر ( کے خاندان ) کی أَنظُرُ مِنْ صَائرِ الْبَابِ - شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ خواتین۔۔۔اور اس نے ان کے رونے کا ذکر کیا۔رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ آپ نے اسے ارشاد فرمایا کہ وہ جا کر انہیں منع کرے وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ وہ گیا اور پھر آپ کے پاس آکر بتایا کہ انہوں نے فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطْعْنَهُ فَأَمَرَهُ اس کی بات نہیں مانی۔آپ نے اسے دوبارہ ارشاد الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ فرمایا کہ وہ جائے اور ان کو منع کرے۔وہ گیا پھر آپ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ کے پاس آیا اور کہا خدا کی قسم یا رسول اللہ ! وہ ہم پر فَزَعَمَتْ أَنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ غالب آگئی ہیں۔راویہ کہتی ہیں حضرت عائشہ بیان وَسَلَّمَ قَالَ اذْهَبْ فَاحْتُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ان التُرَابِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَرْغَمَ الله کے منہ میں مٹی ڈالو۔( یعنی انہیں ان کے حال پر أَنْفَكَ وَالله مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ چھوڑ دو ) * - حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں میں نے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ کہا اللہ تمہاری ناک خاک آلودہ کرے خدا کی قسم ! نہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاء و تو تم وہ کر سکے ہو جو تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ ہے اور نہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے سے باز اللَّهِ بْنُ نُمَيْرِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا آتے ہو۔عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْب عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ح عبد العزیز کی روایت میں ہے اور تم رسول اللہ علیہ کو و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْني ابْنَ مُسْلِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بِهَذَا یہ محاورہ ہے جس کا مفہوم ہے کہ ان کی طرف توجہ نہ کرو۔