صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 95 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 95

صحیح مسلم جلد چهارم 95 95 كتاب الجنائز عثمان بن عفان ) کے بجائے كُنَّا فِي جَنَازَةٍ أُمْ آبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ کے الفاظ ہیں اور باقی روایت اس طرح ہے اور حضرت عمرؓ سے نبی عہ تک مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جیسے ایوب اور ابن جریج نے کی ہے اور ان دونوں کی روایت عمرو کی روایت سے زیادہ عمل ہے۔1535{24} وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :1535 حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے مُحَمَّد أَنْ سَالَمًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْد الله بن کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔عُمَرَ أَنْ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بُبُكَاءِ الْحَيِّ [2152] 1536{25} وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو 1536 : هشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ ہیں انہوں نے کہا حضرت عائشہ کے پاس حضرت خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدِ عَنْ هِشَامِ بْنِ ابن عمر کی اس بات کا ذکر ہوا کہ میت کو اس کے گھر عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ابْنِ عُمَرَ الْمَيِّتُ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ہے۔انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمان پر فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ رحم فرمائے۔انہوں نے ایک بات سنی پھر وہ انہیں شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُول یاد نہ رہی۔بات یہ تھی ایک یہودی کا جنازہ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودي رسول الله اللہ کے سامنے سے گزرا اور وہ لوگ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا تم روتے ہو اور ☆ یقیناً اسے عذاب دیا جا رہا ہے۔ليُعَذِّبُ [2153] حمد بخاری و مسلم کی دوسری روایات میں تم روتے ہو کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ یہ لوگ رور ہے ہیں اور میت کو سزامل رہی ہے۔