صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 94
صحیح مسلم جلد چهارم 94 كتاب الجنائز فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ کہتے ہیں میں نے آپ (حضرت عمرؓ ) کو اطلاع دی۔رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ انہوں نے فرمایا اسے میرے پاس بلالا ؤ۔وہ کہتے الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبَعْض بُكَاءِ أَهْلَه عَلَيْهِ فَقَالَ ہیں میں حضرت صہیب کے پاس گیا اور میں نے کہا ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلكَ چلو اور امیر المؤمنین سے ملو۔پھر جب حضرت عمرؓ پر لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ لَا وَاللَّهُ مَا حملہ ہوا حضرت صہیب روتے ہوئے آئے وہ کہہ حَدَّثَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رہے تھے ہائے میرا بھائی !ہائے میرا دوست ! حضرت عمرؓ نے کہا اے صہیب ! کیا تم مجھ پر روتے ہو اور إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ وَلَكِنْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میت کو اپنے گھر قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بُكَاء أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَسْبُكُمْ الْقُرْآنَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى قَالَ وَقَالَ ابْنُ والوں کے اس پر بعض (انداز سے ) رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے۔پھر حضرت ابن عباس نے کہا جب حضرت عمر وفات پاگئے تو میں نے حضرت عائشہ عبَّاسِ عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى سے اس (بات) کا تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا اللہ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ تعالیٰ حضرت عمر پر رحم فرمائے۔نہیں ، اللہ کی قسم ! مِنْ شَيْءٍ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ رسول الله علیہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو عَنِ ابْنِ أَبِي کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے بلکہ آپ مُلَيْكَةَ كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ نے فرمایا تھا کہ کا فر کو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے اہل کے وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَنصَّ رَفَعَ الْحَدیث رونے کی وجہ سے عذاب میں بڑھاتا ہے۔(راوی) عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے ہیں حضرت عائشہ نے کہا تمہارے لئے قرآن كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدِيثُهُمَا کافی ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی کا بوجھ نہیں أَتَمَّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو [2151,2150] اٹھاتی (الاسراء:16 ) راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابن عباس نے کہا اور اللہ ہی ہنساتا اور رُلاتا ہے (النجم: 44) ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں اللہ کی قسم! حضرت ابن عمرؓ نے کچھ نہیں کہا۔عبد الرحمان بن بشر کی روایت جو ابن ملیکہ سے ہے اس میں (بنت