صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 93
صحیح مسلم جلد چهارم 93 كتاب الجنائز تو انہوں نے فرمایا تم مجھے ان لوگوں کی روایت بیان کر رہے ہو جو نہ غلط بیانی کرنے والے ہیں نہ انہیں جھوٹا قرار دیا گیا ہے لیکن سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔1534{23} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ :1534: عبداللہ بن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حضرت عثمان بن عفان کی بیٹی مکہ میں وفات پا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي گئیں۔وہ کہتے ہیں ہم آئے تاکہ ان کی نماز جنازہ مُلَيْكَةَ قَالَ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْن عَفَّانَ میں شامل ہوں۔وہ کہتے ہیں اس (جنازہ) میں بمَكَّةَ قَالَ فَجِئْنَا لَنَشْهَدَهَا قَالَ فَحَضَرَهَا حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس بھی شامل تھے۔ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ وَإِنِّي لَجَالِسُ وہ کہتے ہیں اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا بَيْنَهُمَا قَالَ جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَاءَ تھا۔وہ مزید کہتے ہیں میں ان میں سے ایک کے الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ پھر دوسرے آئے اور میرے پہلو عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ أَلَا میں آکر بیٹھ گئے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عمرو بن تَنْهَى عَنْ الْبُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عثمان سے کہا اور وہ ان کے سامنے تھے۔کیا تم رونے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بُكاء سے منع نہیں کرو گے؟ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُ ہے کہ میت کو اس کے اہل کے اس پر رونے کی وجہ يَقُولُ بَعْضَ ذَلكَ ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ صَدَرْتُ سے ضرور عذاب دیا جاتا ہے۔حضرت ابن عباس نے مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا کہا کہ حضرت عمر بَعْضَ ذَلِكَ کہا کرتے تھے هُوَ بِرَكْب تَحْتَ ظِلَّ شَجَرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ ( یعنی بعض انداز کے رونے پر )۔پھر انہوں نے یہ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ روایت بیان کی اور کہا میں حضرت عمر کے ساتھ مکہ صُهَيْبٌ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي قَالَ سے نکلا یہانتک کہ جب ہم بیداء ( مقام پر پہنچے تو فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْب فَقُلْتُ ارتحل فَالْحَق کیا دیکھتے ہیں کہ ایک قافلہ درخت کے سایہ میں اترا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ ہوا ہے۔آپ نے کہا جاؤ اور دیکھو یہ قافلہ والے کون صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب تھے۔وہ 3