صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 92
صحیح مسلم جلد چهارم 92 كتاب الجنائز لَمْ تَسْمَعْ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَوَ ساتھ ان کے اہلِ خانہ بھی ہیں۔انہوں نے کہا خواہ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ بھی ہوں۔{ اور بسا وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بِبَعْضٍ بُكَاءِ اوقات راوی ایوب کہتے تھے اسے حکم دو کہ وہ ہم أَهْلِهِ قَالَ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً سے آملے۔جب ہم (مدینہ) آئے تو زیادہ دیرنہ وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضٍ فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ ہوئی کہ امیر المؤمنین پر حملہ ہوا۔صہیب یہ کہتے ہوئے عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ آئے ہائے میرے بھائی ! ہائے میرا دوست“ حضرت فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ الله صَلَّی عمر نے کہا کیا تم نہیں جانتے کیا تم نے سنا نہیں ؟ راوی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے (آلم تَعْلَمُ أَو لَم بُكَاء أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ قَالَ إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ تَسْمَعُ ) كى بجائے اَوَلَم تَعْلَمُ أَوْلَمُ تَسْمَعُ کہا اللهُ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میت کو اپنے گھر أَضْحَكَ وَأَبْكَى وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى والوں کے بعض (انداز کے ) رونے کی وجہ سے قَالَ أَيُّوبُ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَنِي عذاب دیا جاتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّد قَالَ لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عبد اللہ نے تو اس کو عام رکھا تھا مگر حضرت عمرؓ نے عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ إِنَّكُمْ لَتُحَدَّثُونَي عَن بعض کا لفظ بولا ہے تو میں اُٹھا اور حضرت عائشہ کے غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ پاس گیا اور ان کو بتایا جو حضرت ابن عمر نے کہا تھا انہوں (حضرت عائشہ ) نے فرمایا نہیں ! اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ کا فر کو آگ کے عذاب میں بڑھا دیتا ہے اور یقینا اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے (النجم : 44) اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتی (الاسراء: 16 ) قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ کو جب حضرت عمر اور حضرت ابن عمر کی روایت پہنچی يُخطى [2149]