صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 91 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 91

صحیح مسلم جلد چهارم 91 كتاب الجنائز بنت۔1533{22} حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد حَدَّثَنَا 1533 : عبد الله بن ابی ملیکہ سے روایت ہے وہ کہتے إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ ہیں میں حضرت ابن عمر کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا اور ہم الله بْن أَبي مُلَيْكَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ام ابان بنت عثمان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے اور جَنبِ ابْن عُمَرَ وَنَحْنُ تَنتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ان کے پاس عمرو بن عثمان تھے۔اتنے میں حضرت عُثْمَانَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابن عباس آئے۔ان کو ایک گائیڈ (guide) لے ابْنُ عَبَّاسِ يَقُودُهُ قَائِدٌ فَأَرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ کر آ رہا تھا۔میرا خیال ہے اس نے ان سے حضرت ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبي ابن عمر کی موجودگی کا ذکر کیا۔وہ آکر میرے پہلو میں فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَإِذَا صَوْتُ مِنَ الدَّارِ فَقَالَ بیٹھ گئے اور میں ان دونوں کے درمیان تھا اچانک گھر ابْنُ عُمَرَ كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرُو أَنْ يَقُومَ سے (رونے کی آواز آئی۔حضرت ابن عمرؓ نے گویا فَيَنْهَاهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عمرو کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑا ہو کر انہیں منع کر دے۔چنانچہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بُبُكَاء انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ علیہ کو فرماتے سنا أَهْلِهِ قَالَ فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً فَقَالَ ہے کہ میت کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے ضرور كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ عَذاب دیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ نے اس بات کو الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ عام رکھا تھا۔اس پر حضرت ابن عباس نے کہا ہم بِرَجُلٍ نَازِلِ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ لِي امير المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب کے ساتھ تھے اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ یہانتک کہ ہم بیداء مقام پر پہنچے تو کیا دیکھا کہ ایک فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ شخص درخت کے سائے میں اترا ہوا ہے۔انہوں أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ نے کہا جاؤ اور پتہ کر کے مجھے بتاؤ کہ وہ کون شخص قَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقِّ بِنَا فَقُلْتُ إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ ہے؟ میں گیا تو دیکھا کہ وہ حضرت صہیب تھے۔میں قَالَ وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ ان (حضرت عمرؓ) کی طرف واپس لوٹا اور کہا آپ مُرْهُ فَلْيَلْحَقِّ بِنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَتْ أَميرُ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے لئے پتہ کروں کہ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وہ کون ہیں۔وہ حضرت صہیب ہیں۔انہوں نے کہا وا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَوَ اسے کہو وہ ہمارے ساتھ آملے۔میں نے کہا ان کے ابْنُ عَباس