صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 90 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 90

صحیح مسلم جلد چهارم 90 كتاب الجنائز صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنْ رَسُولَ الله صَلَّى رسول الله علیہ نے فرمایا ہے کہ میت کو زندوں کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔۔بُكَاءِ الْحَيُّ 21461] 1531 {20} و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا :1531 حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى عَنْ عَبْدِ ہیں جب حضرت عمر پر حملہ ہوا تو حضرت صہیب اپنے الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى گھر سے آئے اور حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے اور آپ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے۔حضرت عمر نے مُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَامَ پوچھا کیوں روتے ہو؟ کیا مجھ پر روتے ہو؟ انہوں بِحِيَالِهِ يَبْكِي فَقَالَ عُمَرُ عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ نے کہا ہاں اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین! میں تَبْكِي قَالَ إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ یقیناً آپ پر ہی روتا ہوں۔انہوں نے فرمایا اللہ کی الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ قسم ! تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس پر الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُبْكَى رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔راوی کہتے ہیں عَلَيْهِ يُعَذِّبُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ میں نے یہ بات موسیٰ بن طلحہ کے پاس بیان کی تو طَلْحَةَ فَقَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّمَا كَانَ انہوں نے کہا حضرت عائشہ کہتی تھیں اس سے تو أُولَئِكَ الْيَهُودَ [2147] صرف یہودی لوگ مراد تھے۔1532{21} و حَدَّثَنِي عَمْرُو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا :1532 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بن خطاب پر جب حملہ کیا گیا تو حضرت حفصہ آپ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا پر بآواز بلند رونے لگیں تو آپ نے کہا اے حفصہ ! طَعَنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ يَا حَفْصَةُ کیا تم نے رسول اللہ علیہ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ أَمَا سَمِعْت رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جس پر بلند آواز سے رویا جائے وہ عذاب دیا جاتا وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذِّبُ وَعَوَّلَ ہے اور صہیب آپ پر بآواز بلند رونے لگے۔حضرت عَلَيْهِ صُهَيْبٌ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عمر نے کہا اے صہیب" کیا تم جانتے نہیں کہ جس پر عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذِّبُ [2148] بلند آواز سے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔