صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 89
صحیح مسلم جلد۔سوم 89 كتاب المساجد و مواضع الصلاة اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فرماتے ہوئے سنا کہ جبریل اترے اور مجھے نماز فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ پڑھائی۔میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان يَحْسُبُ بِأَصَابِعه خَمْسَ صَلَوَاتٍ [1379] کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب کر رہے تھے۔952{167} أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى 952: ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزیز التّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنِ ابْنِ نے ایک دن نماز میں کچھ تاخیر کی تو عروہ بن زبیران شهَابٍ أَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَرَ الصَّلَاةَ کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ ایک روز حضرت مغیرہ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَحْبَرَهُ أَن بن شعبہ نے نماز میں تاخیر کی جبکہ وہ کوفہ میں تھے۔الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ ان کے پاس حضرت ابو مسعود انصاری گئے اور کہا بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيُّ اے مغیرہ! کیا بات ہے؟ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ جبریل فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنْ آئے۔انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے جبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّی بھی نماز پڑھی۔پھر انہوں نے نماز پڑھی تو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ الله رسول الله علی نے بھی نماز پڑھی۔پھر انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّی نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی۔پھر رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ پڑھی۔پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ علی صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے بھی نماز پڑھی۔پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ حکم دیا وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتُ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ گیا ہے۔اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز ) نے عروہ الظُرْ مَا تُحَدِّثَ يَا عُرْوَةُ أَوَ إِنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ سے کہا دیکھو عروہ! یہ کیا بات کر رہے ہو؟ کیا جبریل السَّلَام هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے رسول اللہ عے کے لئے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ وَسَلَّمَ وَقْت الصَّلَاةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ عروہ نے کہا کہ اسی طرح بشیر بن ابو مسعود اپنے والد كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبيه سے روایت کرتے تھے۔