صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 53
صحیح مسلم جلد۔سوم 53 كتاب المساجد و مواضع الصلاة 96887) وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ :887: حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم نے حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيُّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ رسول الله اللہ کے ساتھ نماز پڑھی۔آپ نے یا عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ زیادہ نماز پڑھا دی یا کم پڑھائی۔اور ابراہیم کہتے عَبْدِ اللهِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی ہیں خدا کی قسم! یہ بات میری طرف سے ہے۔وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ (حضرت عبداللہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِي يا رسول اللہ ! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ آپ نے فرمایا نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پھر جو حضور نے شَيْءٍ فَقَالَ لَا قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ کیا تھا وہ ہم نے بتایا تو آپ نے فرمایا: جب آدمی إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ (نماز میں کچھ کمی بیشی کرے تو وہ دو سجدے سَجْدَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجدَتَيْنِ [1287] کرے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے دو سجدے کئے۔888{97} حَدَّثَنِي عَمْرُو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ 888 : حضرت ابو ہریرۃا کہتے ہیں کہ ہمیں حَرْبِ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرُو رسول الله علیہ نے بعد دو پہر کی نمازوں ظہر یا عصر حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُبَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ میں سے کوئی نماز پڑھائی اور دورکعتوں کے بعد آپ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا نے سلام پھیر دیا۔پھر آپ ایک تنے کے پاس جو هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى مسجد کے قبلہ کی طرف تھا گئے اور آپ نے اس کے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ إِمَّا ساتھ سہارا لیا اور آپ ناراض تھے۔اور لوگوں میں الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر شامل تھے۔وہ دونوں أَتَى جدعًا في قبْلَة الْمَسْجِد فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا ڈرے کہ بات کریں۔اور جلد جانے والے ( یہ کہتے مُغْضَبًا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهَابَا أَنْ ہوئے) باہر چلے گئے کہ نماز چھوٹی کر دی گئی ہے۔يَتَكَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاس قُصرت ذوالیدین کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! الصَّلَاةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله کیا نماز چھوٹی ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ أَقْصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبي نبی ﷺ نے دائیں اور بائیں نظر دوڑائی اور فرمایا کہ