صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 42 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 42

42 كتاب المساجد و مواضع الصلاة 871 (78) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا :871 معدان بن ابو طلحہ سے روایت ہے کہ يَحْيَى بْنُ سَعيد حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حضرت عمر بن خطاب نے جمعہ کے روز خطبہ دیا اور عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْن أَبي اللہ کے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر کا ذکر کیا اور فرمایا طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے گویا ایک مرغ نے الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور میں اس کی یہی تعبیر سمجھتا وَسَلَّمَ وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ہوں کہ اب میری موت قریب ہے۔لوگ مجھے کہتے دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتِ وَإِنِّي لَا أَرَاهُ إِلَّا ہیں کہ میں اپنا جانشین مقرر کر دوں اور اللہ تعالیٰ نہ تو حُضُورَ أَجَلِي وَإِنْ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ اپنے دین کو ضائع کرے گا اور نہ اپنی خلافت کو اور نہ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيَّعَ دِينَهُ وَلَا ہی اس کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی ﷺ کو خِلَافَتَهُ وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ مبعوث فرمایا۔اگر میرے بارہ میں حکم جلدی آ گیا تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ ان چھ آدمیوں کے باہمی مشورہ سے خلافت ہوگی جن شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ سے رسول اللہ علی راضی تھے جب آپ کی وفات رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ہوئی۔اور مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ جن کو میں نے عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنْ أَقْوَامًا اسلام ) کے مطابق ) اپنے ہاتھ سے سزا دی ہے اس يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي معاملہ میں طعن کریں گے۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَأُولَئِكَ یہ سب اللہ کے دشمن کا فراور گمراہ ہوں گے۔پھر میں أَعْدَاءُ الله الْكَفَرَةُ الصَّلالُ ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ اپنے بعد اپنی رائے میں کلالہ کے مسئلہ ) سے اہم بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ مَا کوئی چیز نہیں چھوڑ رہا اور میں نے کسی چیز کے بارہ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں رسول اللہ ﷺ سے اتنا زیادہ نہیں پوچھا جتنا فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ کلالہ کے بارہ میں پوچھا اور آپ نے بھی مجھ سے کسی لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّى طَعَنَ چیز کے بارہ میں اتنی شدت نہیں فرمائی جتنی اس میں بارہ بإصبعه في صَدْرِي فَقَالَ يَا عُمَرُ أَلا فرمائی۔یہانتک کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینہ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ پر مار کر فرمایا کہ اے عمر! کیا تجھے آیت الصيف