صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 326
326 كتاب صلاة المسافرين وقصرها الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي رسول الله علم کو ان دونوں رکعتوں) سے منع حَرَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ کرتے ہوئے سنا پھر آپ کو یہ دونوں رکعتیں ) الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قومي بجنبه فَقُولي لَهُ پڑھتے بھی دیکھا۔جب آپ نے یہ دو رکعتیں) تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ پڑھیں اس وقت یوں ہوا کہ آپ نے عصر پڑھی اور تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا اندر تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتِ حرام کی عورتیں تھیں۔آپ نے دو رکعتیں الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا پڑھیں۔تب میں نے آپ کے پاس ایک لڑکی الصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ بھیجی اور کہا کہ آپ کے پہلو میں کھڑی ہو جاؤ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ من اور آپ سے عرض کرو کہ یا رسول اللہ ! ام سلمہ کہہ رہی عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي ہیں کہ میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا تا ہے اور آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھ رہی سنا ہوں۔پھر اگر آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما ئیں تو هاتان [1933] مِنْ پیچھے ہٹ جانا۔راوی کہتے ہیں کہ لڑکی نے ایسا ہی کیا۔آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔پھر جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے بنت ابو امیہ ! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارہ میں پوچھا تھا بات یہ ہے کہ میرے پاس قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر آئے۔انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دورکعتیں پڑھنے سے مصروف رکھا تو یہ وہ دو رکعتیں) ہیں۔1370 (298) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ :1370 : ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا حضرت عائشہؓ سے ان دو رکعتوں کے بارہ میں الله إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ پوچھا جو رسول اللہ علیہ عصر کے بعد پڑھا کرتے