صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 323 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 323

323 كتاب صلاة المسافرين وقصرها يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا حَرَّتْ خَطَايَا میں مجھے بتائیے۔حضور نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی رجليه من أنامله مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ آدمی بھی وضوء کا پانی لیتا ہے اور کلی کرتا ہے اور ناک فَصَلَّى فَحَمدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ میں پانی ڈالتا ہے اور اسے صاف کرتا ہے تو اس کے بالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لله إلا چہرے اس کے منہ اور اس کے ناک کے سب گناہ گر الصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ جاتے ہیں جیسے اللہ نے اسے حکم دیا ہے وہ اپنا چہرہ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيث أَبَا دھوتا ہے تو اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے أَمَامَةً صَاحِبَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ساتھ سب خطا میں گر جاتی ہیں۔پھر وہ اپنے دونوں وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی الظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامِ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا انگلیوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرُو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبَرَتْ گر جاتی ہیں پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سِنِّي وَرَقَ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي سر کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ سب حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُول خطا میں گر جاتی ہیں۔پھر وہ اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُول الله صَلَّى اللهُ تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی پوروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں گر جاتی ہیں۔عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَكِنِّي پھر اگر وہ کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی حمد کرتا اور ثناء کرتا ہے اور اس کی مسجد بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنی خطاؤں سے دور ہو جاتا ہے اس دن کی طرح جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔عمرو بن عبسہ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوامامہ کو بتائی تو ابو امامہ نے ان سے کہا کہ اے عمر و بن عبسہ ! دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا ایک (ہی ) مقام پر ایک آدمی کو اتنا اجر دیا جائے گا۔عمرو نے کہا اے ابو امامہ میں تو بوڑھا سمعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ [1930]