صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 321
321 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخبِرُ أَخبَارًا کہ میں نبی ہوں۔میں نے پوچھا نبی کیا ہوتا ہے؟ فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔میں نے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پوچھا کہ اس نے کس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا ہے؟ مُسْتَحْفِيًا جُرَءَاءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى آپ نے فرمایا کہ اس نے مجھے صلہ رحمی کرنے ، بتوں دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنتَ قَالَ أَنَا کو توڑنے اور اللہ کو واحد ماننے اور یہ کہ اس کے ساتھ نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللهُ فَقُلْتُ کوئی شریک نہیں کے ساتھ بھیجا ہے۔میں نے آپ وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ قَالَ أَرْسَلَنِي بصلَةِ سے پوچھا کہ اس بات پر آپ کے ساتھ کون ہیں؟ الْأَرْحَامِ وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا آپ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام۔يُشْرَك به شَيْءٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَكَ عَلَی انہوں نے کہا کہ ان دنوں آپ کے ساتھ آپ پر هَذَا قَالَ حُرِّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو ایمان لانے والوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت بَكْرٍ وَبِلَالُ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُكَ بلال تھے۔میں نے کہا کہ میں آپ کی پیروی کروں قَالَ إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا أَلَا گا۔آپ نے فرمایا کہ تم آج اس کی طاقت نہیں تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى رکھتے، کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے ؟ ہاں تم أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأتني اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر جب میرے بارہ میں سنو کہ قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدمَ رَسُولُ اللہ میں غالب آ گیا ہوں تب میرے پاس آجانا۔وہ کہتے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي ہیں کہ پھر میں اپنے گھر چلا گیا اور رسول اللہ : أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ مدينة تشريف لائے تو میں اپنے گھر میں تھا۔جب النَّاسِ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ آپ مدینہ تشریف لائے تب میں خبریں لینے لگا اور منْ أَهْل يَكْربَ منْ أَهْل الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا لوگوں سے پوچھنے لگا یہانتک کہ اہل میٹر ب۔مدینہ فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا والوں کی طرف سے میرے پاس کچھ لوگ آئے میں النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتَلَهُ فَلَمْ نے کہا کہ ان کا کیا حال ہے جو مدینہ آئے ہیں؟ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ انہوں نے کہا کہ لوگ تیزی سے ان کی طرف آرہے عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ ہیں جبکہ اُن کی قوم نے اُن کے قتل کا ارادہ کیا تھا لیکن